فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تنظیم نو کے لیے چار رکنی کمیٹی قائم

ایف بی آر

نجی بینک کے اکاؤنٹس سے 41 کروڑ روپے نکلوائے جانے کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں پہنچ گیا


اسلام آباد(شہزاد پراچہ) سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تنظیم نو کے لیے چار رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گٸی۔

ذرائع کے مطابق ایس آئی ایف سی کی ہدایت پر نگران حکومت نے چٸیرمین ایف بی آر، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری تجارت اور سیکرٹری کابینہ ڈویژن پر مشتمل چار رکنی کمیٹی قائم کی ہے جو ایف بی آر کی کی تنظیم نو پر جامع سفارشات سمری کی صورت میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کرے گی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 30 لاکھ نان فائلرز کو ٹیکس نوٹس جاری کر دیے

ذرائع کے مطابق ایس آئی ایف سی نے ایف بی آر کی تنظیم نو پر جنرل سفارشات منظور کی تھی جس کے تحت ایف بی آر کے کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹس کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی تجویز کی منظوری دی گئی ہے اسی طرح افسران کے عہدوں کے حوالے سے سفارشات فائنل ہونا باقی ہیں۔

ذرائع کے مطابق نگران حکومت نے نیشنل ٹیکس اتھارٹی کے قیام کی تجویز موخر کردی ہے حکومت نیشنل ٹیکس اتھارٹی کے تحت صوبوں سے سیلز ٹیکس بھی وصول کرنا چاہتی تھی مگر وفاق اور صوبوں میں نگران حکومتوں کا قیام کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ سیلز ٹیکس کی وصولی کے لیے سی سی آئی سے منظوری لینا ضروری ہے۔

ایف بی آر کا پوائنٹ آف سیل انعامی سکیم دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ

دوسری جانب  واضح رہے ہفتہ کو وزارت خزانہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے کام کے طریقہ کارکو معقول بنانے۔

ایف بی آر پالیسی بورڈ کو مضبوط بنانے اور ریونیو ایجنسی کی مجموعی گورننس، مربوطی اور کارکردگی کو تخلیقی نگرانی کے ڈھانچے پر مبنی بنانے کے لئے بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق کچھ تجاویز مرتب کی گئی ہیں جو حکومت اور صارفین کے لئے ادارے کے احتساب میں اضافہ کریں گی۔

خصوصی انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی بہتر کار کردگی اور احتسابی عمل بھی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایک ادارہ جاتی میکانزم پر غور کیا جارہا ہے تاکہ ٹیکس نظام میں شفافیت اور مساوات کو یقینی بناتے ہوئے ٹیکس نظام کو معقول بنانے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے بہترین مہارت اور تجزیاتی صلاحیت کے ساتھ ایک ٹیکس پالیسی گروپ قائم کیا جا سکے ۔

ایف بی آر نے منی لانڈرنگ میں ملوث کارٹیل کا سراغ لگا لیا

یہ تجاویز حکومت نے ایف بی آر اور اس کے اراکین ، ماہرین تعلیم اور سینئر قیادت کے ساتھ مہینوں کی مشاورت کے بعد تیار کی ہیں۔

تاہم، ان تجاویز میں افرادی قوت کی کمی یا کسی بھی دوسری ادارے اور وزارت کی طرف سے کسٹمز یا ان لینڈ ریونیو سروس کے انتظامی معاملات میں کسی بیرونی مداخلت سے متعلق کوئی چیز شامل نہیں ہے۔

آئی ایم ایف کا فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 34 ارب روپے کمی کا تخمینہ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تنظیم نو سے متعلق ڈیجیٹل میڈیا کی رپورٹس میں اصلاحات کے مقصد اور دائرہ کار کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے جو ٹیکس/ جی ڈی پی کے تناسب کو بڑھانے کے لئے انتہائی ضروری ہیں، جبکہ بوجھ بانٹنے اور ٹیکس اور سرمایہ کاری کی سہولیات کی اجازت کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں


متعلقہ خبریں