سموگ کے روگ کا سوگ

موسم سرد اور خشک

( رانا فیضان علی)موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی پنجاب کے عوام بالخصوص لاہور کے باسی سموگ کے عفریت سے دو چار ہو جاتے ہیں۔ جلن سے آنکھیں ملتے ہیں نزلہ زکام کھانسی کے نرغے میں سکون کھو بیٹھتے ہیں۔ فضا میں تاحد نگاہ پھیلی نیم میالی زردی کے سرمئی مرغولوں سے سانس لینے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

لاہور جہاں اور بہت سے اعزازات کا حامل شہر ہے وہاں اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے کہ یہ عالمی سطح پر آلودگی کی پہلی تین پوزیشنوں میں سے کوئی نہ کوئی پوزیشن ضرور برقرار رکھتا ہے۔

سموگ میں باریک ذرات کی بڑی تعداد کو ولمبیٹائل آرگینگ کمپاؤنڈز کہا جاتا ہے۔ یہ ذرات گیس ہٹی اور پانی کے بخارات کے ملاپ سے تشکیل پاتے ہیں۔ صنعتوں، گاڑیوں اور کوڑا کرکٹ جلانے سے سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ کے ذرات بھی ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں پھر جب سورج کی کرنیں ان ذرات پر پڑتی ہیں تو یہ سموگ کی شکل اختیار کر کے فضا کو آلودہ کر دیتے ہیں۔

سرد موسم میں ہوا کی رفتار میں کمی کے باعث دھویں اور دھند کے جمنے سے سموگ وجود میں آتی ہے۔ جو انسانوں کے ساتھ ساتھ پودوں کی افزائش کو بھی نقصان پہنچاتی ہے اس کے نتیجے میں فصلیں اور جنگلات بڑے پیمانے پر متاثر ہوتے ہیں۔

سموگ میں موجود چھوٹے کیمیائی اجزا سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر صحت کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

پی ایم 2.5 کے ذرات اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ نہ صرف سانس کے ذریعے آپ کے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں بلکہ آپ کی رگوں میں دوڑتے خون میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے صحت نے ایئر کوالٹی انڈیکس کے حوالے سے جو رہنما اصول مرتب کیے ہیں ان کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے دوران کسی بھی شہر یا علاقے کی فضا میں موجود پی ایم 2.5 ذرات کی تعداد 25 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے مگر اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لاہور شہر کی ائیر کوالٹی کئی مرتبہ 300 سے 500 تک پہنچ چکی ہے۔

سموگ بنیادی طور پر اوزون پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اس میں دیگر نقصان دہ مادے بھی ہوتے ہیں، جیسے سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور چھوٹے مالیکیول جو ہمارے پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ امریکہ، یورپ اور ایشیائی ممالک میں ہزاروں قبل از وقت اموات کا تعلق سموگ کے ذرات میں سانس لینے سے ہے۔

اس طرح کے کیمیائی ذرات میں بینزین، فارملڈ ہائیڈ اور بوٹاڈین شامل ہیں، جو پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بننے والے کینسر پیدا کرنے والے کارسنو جنز پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بھاری سموگ جو طویل عرصے تک رہتی ہے الٹرا و اسکنٹ (یوری) شعاعوں کو زمین کی سطح تک پہنچنے سے روکتی ہے۔

اس کے نتیجے میں بون میرو میں کیلشیم اور فاسفورس کے میٹا بولزم کی خرابی کی وجہ سے وٹامن ڈی کی کم پیداوار ہوتی ہے جس کی وجہ سے سوکھے کی بیماری پنپتی ہے۔

فضائی آلودگی کو جانچنے کے پیمانے ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) کے مطابق لاہور اور اس کے گردو نواح میں رہنے والے شہریوں کی زندگی فضائی آلودگی کی وجہ سے سات سال کم ہو رہی ہے۔

گویا سموگ براہ راست انسانی زندگی کو متاثر کرتے ہوئے انہیں راہی عدم کرنے کی جانب گامزن ہے۔ 2012 میں یونیورسٹی آف شکاگو کی فضائی آلودگی کے بارے میں ایک تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں رہنے والے افراد کی متوقع اوسط عمر ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے باعث چار سال تک بڑھ سکتی ہے جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث پاکستان کے شہریوں کی زندگی میں نو ماہ کی کمی ہورہی ہے۔

بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ سموگ صرف ایک دھند آلود فضا ہے لیکن یہ انسانی صحت کو متاثر کرتے ہوئے انتہائی موذی امراض کے پھیلاؤ کا سبب بھی ہے جن میں پھیپھڑوں اور کینسر جیسے امراض بھی شامل ہیں۔ ہر سال یہ آوازیں تو سنائی دیتی ہیں کہ سموگ کی بنیادی وجہ فصلوں کی باقیات کو جلا کر فضا کو آلودہ کرنا، دھواں چھوڑنے والے گاڑیوں کی کثرت اور صنعتی یونٹوں سے نکلنے والا دھواں ہے۔

قوم کے اذھان میں بارہا یہ حقائق انڈیلے جاچکے ہیں کہ 43 فیصد فضائی آلودگی ٹرانسپورٹ کے شعبے سے آتی ہے جبکہ میں سے میں فیصد فضائی آلودگی کا سبب انڈسٹریل سیکٹر ہے۔

اس ضمن میں بھارت کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ وہاں سرحد کے ساتھ جلائی جانے والی فصلوں کے باعث لاہور میں سموگ کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے

تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ تا حال کوئی ٹھوس و جامع پالیسی کا تعین نہیں کیا جاسکا کیونکہ یہ ہماری فطرت ثانیہ ہے کہ ہم مسائل کی نشاندہی تو کر لیتے ہیں، نازک صورتحال کے ادراک کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے

اس کے تدارک کے بلند بانگ دعوے بھی کیے جاتے ہیں لیکن عملی اقدامات میٹنگز کے اثر دھام کے نتیجے میں بنائی گئی پالیسوں کی دستاویزات میں پڑے سکتے ہوئے اگلی بار خوبصورت الفاظ کی ملمع کاری کے حامل بیانات کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سموگ پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ ہمارا استقبال کرتی ہے حالانکہ حالات غمازی کرتے ہیں کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی کہہ چکا ہے اور ہم مزید غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

شومئی قسمت حکام بالا کے اقدامات کی تان مختلف اضلاع میں ہیلتھ ایمر جنسی اور دفعہ 144 کے نفاذ تعلیمی اداروں اور سرکاری و نجی دفاتر کی بندش سموگ کو آفت قرار دینے اور فضائی آلودگی کا سب بننے والے افراد کے خلاف چند ایک کارروائیوں پر ٹوٹتی ہے جو الیکٹرک وہیکل پالیسی مرتب کی گئی تھی اس کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس پر آج سے کم و بیش 23 برس قبل کام کا آغاز کیا گیا تھا لا ہور ہائیکورٹ نے بھی از خود نوٹس لیتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کو ائیر کوالٹی انڈیکس کی جامع حکمت عملی اور معیار مقرر کرنے کی ہدایت کے علاوہ سموگ کمیشن کے قیام کا حکم صادر کیا تھا تا ہم نتیجہ ھاک کے تین پات ہی ہے۔

جب تک ماحولیات سے جڑے مسائل کو حل کرنے کیلئے منصوبہ بندی اور طویل المدتی کار آمد اقدامات میں تسلسل نہیں لایا جا تا یہ مسئلہ ختم نہیں ہو سکتا۔

اس تشویشناک ماحول میں عوام کے لیے لازم ہے کہ وہ حکومتی اقدامات کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے تئیں احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لا کر سموگ کے اثرات سے بچاؤ کا اہتمام کرے۔

سموگ کے دوران گھر سے باہر نکلنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اگر بالفرض محال ناگزیر صورتحال میں نکلنا پڑے تو کم از کم ماسک کا استعمال ضروری ہے۔ سموگ سے آلودہ علاقے میں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپا جائے، گھر کے دروازے اور کھڑکیوں کو بند کر دیا جائے۔

فضا کو صاف کرنے والے مختلف فلٹرز اور ایسے جدید آلات دستیاب ہیں جن کو استعمال کر کے ہم اپنے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں کی فضا کو صاف رکھ سکتے ہیں۔

سموگ کے حالات میں کھلے عام ورزش کرنے سے گریز کیا جائے سموگ کی وجہ سے ہوا کا پریشر زمین پر کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے سانس پھولنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر سانس لینے میں مشکل پیش آسکتی ہے اور اگر سانس اکھڑ جائے تو سانس بحال ہونے میں وقت ہوتی ہے۔

ایسے افراد جو پہلے سے ہی سانس کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوں وہ اس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

دمہ یا سی او پی ڈی کی صورت میں ہر وقت اپنا انہیلر ساتھ رکھیں، سانس کی تکلیف میں سفر کرنے سے گریز کریں۔

ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور صنعتی علاقوں میں آلودگی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان سے بھی پر ہیز کریں۔ شہروں میں گاڑیوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں سردی کے دنوں میں یا ٹریفک جام میں پھننے پر اپنے انجن کو اپنے گھر کے باہر زیادہ دیر تک نہ چلائیں اور نہ ہی چلنے دیں۔

سینے میں جکڑن، آنکھوں میں جلن، یا کھانسی کی علامات کی صورت میں فورا اپنے ڈاکٹر سے ملیں، بچوں کو آلودگی کی بلند سطح کے اثرات بڑوں کی نسبت زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔

سموگ انسانی صحت کے ساتھ ساتھ درختوں اور پودوں پر بھی نقصان دہ اثرات مرتب کرتی ہے اس کی وجہ سے درختوں کے مسامات بند ہو جاتے ہیں اور اس طرح ماحول میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔ سموگ ایک ایسی میڈیکل ایمر جنسی کا نام ہے جو ہم سب کی صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہے۔

گیس کے مختلف آلات کو استعمال کرنے کے بجائے بجلی کے آلات کا استعمال کریں، خراب گاڑیاں یا ایسی مشینیں جن سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہو، ان کے استعمال کو ترک کر دیں اور گاڑیوں کے استعمال کو کم سے کم کر کے پیدل چلنے کو ترجیح دیں۔

اپنے علاقے میں موجود پودوں اور درختوں کو کاٹنے سے اجتناب کریں اس کے علاوہ گاڑی چلاتے وقت گاڑیوں کی رفتار دھیمی رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال کریں۔

اگر ہم نے اب بھی معاملات کے سدھار کے ضمن میں روایتی تساہل سے جان چھڑا کر وقت پر لگائے جانے والے ٹانکے کی اہمیت والے مقولے کو حرز جاں نہ بنایا تو نہ جانے مزید کتنے عرصے تک ہمیں سموگ کا سوگ منانا پڑے گا۔


متعلقہ خبریں