ارون دھتی رائے جواہر لال نہرو کے کشمیر سے متعلق خطوط سامنے لے آئیں


بھارت کی  نامور مصنفہ اور لکھاری ارون دھتی رائے سابق بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کے کشمیر سے متعلق مختلف ادوار میں لکھے خطوط اور خطابات کا ریکارڈ سامنے لے آئیں۔

بھارتی مصنفہ کی طرف سے سامنے لائے گئے تاریخی مواد میں بھارت کے سابق وزیراعظم جواہر لال نہرو متعدد بار کشمیر کے مسئلے کو عوامی ریفرنڈم کے ذریعے حل کرنے کا اعادہ کرتے نظر آتے ہیں۔

بھارت کی معروف مصنفہ ارون دھتی رائے کے مطابق 27 اکتوبر 1947 کو جواہر لال نہرو نے وزیراعظم پاکستان کے نام ٹیلی گرام لکھا جس میں بھارتی وزیراعظم نے واضح کیا کہ کسی بھی متازعہ علاقے کا معاملہ لوگوں کی مرضی کے مطابق طے کیا جائے گا۔

31 اکتوبر 1947 کو وزیراعظم پاکستان کے نام لکھے گئے ٹیلی گرام میں پنڈٹ لال نہرو نے کہا کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق مہاراجہ ہری سنگھ حکومت کی درخواست پر ہوا، ایسی ریاست جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، اس کے الحاق کا فیصلہ کشمیر کے عوام ہی کرسکتے ہیں۔

2 نومبر 1947 کو ریڈیو پر نشر ہونے والے پیغام میں بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ بحران کی صورتحال میں ہم کشمیری عوام کی رائے جانے بغیر حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے،

3 نومبر 1947 کو نشر ہونے والے خطاب میں بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ ہم اعلان کرتے ہیں کہ کشمیر کی قسمت کا آخری فیصہ بلآخر وہاں کے لوگوں نے ہی کرنا ہے۔

جواہر لال نہرو نے 21 نومبر 1947 کو وزیراعظم پاکستان کے نام لکھے گئے خط میں کہا کہ وہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ جیسے ہی امن قائم ہوگا کشمیر کا الحاق عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے تحت ریفرنڈم کے ذریعہ ممکن بنایا جائے گا۔

25 نومبر 1947 کو بھارتی آئین ساز اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے جواہر لال نہرو نے کہا کہ کشمیر کا حق خودارادیت کا فیصلہ غیرجانبدار ٹربیونل یعنی اقوام متحدہ کے ذریعہ ہی ممکن بنائیں گے۔

5 مارچ 1948 کو بھارتی آئین ساز اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے نہرو نے کہا کہ ہم کشمریوں کو آزادانہ طور پر شفاف ووٹنگ کا حق دینے کے پابند ہیں۔

16 جنوری 1951 کو اپنی پریس کانفرنس میں جواہر لال نہرو نے کہا کہ حتمی فیصلہ کشمریوں نے خود کرنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ رہنے کے خواہش مند ہیں۔ پاکستان اور بھارت پہلے ہی اس بات پر اتفاق رائے کا اظہار کرچکے ہیں۔

6 جولائی 1951 کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی رپورٹ میں نہرو نے کہا کہ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے تناظر میں نہیں دیکھنا ہوگا، کشمیری زمینیں بکاو مال نہیں۔

11 ستمبر 1957 کو اقوام متحدہ کے نمائندے کو لکھے گئے خط میں نہرو نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے سے حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

مذکورہ بالا ریکارڈ سامنے آنے کے بعد بھارتی ایوان میں ہلچل مچ گئی اور حکومتی بینچوں پر تنقید میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ کشمیر : 1947سے لیکر آج تک۔۔۔


متعلقہ خبریں