امریکہ کا سی پیک سے متعلق بیان اشتعال انگیز ہے, سینیٹر میاں رضا ربانی

صدر مذاکرات میں کردار ادا نہیں کر سکتے، فوری اصلاح نہ کی تو تباہی کے سوا کچھ نہیں، رضا ربانی

فوٹو: فائل


اسلام آباد: سابق چئیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب سیکریٹری ایلس ویلز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے امریکہ کا سی پیک سے متعلق بیان اشتعال انگیز ہے۔

اپنے ایک بیان میں رضا ربانی نے کہا کہ امریکہ کا بیان ایک خود مختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ امریکہ احساس کرے کہ پاکستان اس کی ریاست نہیں ہے، نہ ہی پاکستان سامراج کی موکل ریاست ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے جس کی اپنی معیشت اور قومی سیکیورٹی ترجیحات ہیں۔ پاکستان کے عوام کو امریکہ کے نام نہاد تعلقات کا تجربہ ہے۔ ہمیں کیری لوگر سے وابستہ امداد اور بھارت کے ساتھ جنگ میں چھٹے بیڑے کا تجربہ ہے۔

سابق چئیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کو افغان جنگ میں استعمال ہونے اور جہادی کو لانے کا بھی تجربہ ہے۔ ہمیں امریکہ کے چھوڑ کر چلے جانے اور پاکستان کو دہشت گردی سے بھگتے کا بھی تجربہ ہے۔ ہمیں افغان اپریشن میں سہولیات کی عدم ادائیگی اور آئی ایم ایف کی شرائط کا بھی تجربہ ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا درینہ اور قابل اعتماد سٹرییجک ساتھی ہے۔ چین نے بدترین بحرانوں میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے مغرب سےامداد کی بجائے ایشاء میں تجارت کا راستہ اختیار کیا ۔ مغرب نے ہمیشہ ایشاء کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک چینی امداد نہیں بلکہ تجارتی منصوبہ ہے، اسد عمر

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ کی مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی، عصمت دری، تشدد، انسانی حقوق کی پامالی پر خاموشی اس کا بھارت کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سامراجی ماڈل اپنا نے کا کہہ کر امریکہ پاکستانی معیشت کو محکوم بنانا چاہتا ہے، تاکہ امریکہ چین کے خلاف بھارت کو خطے کا پولیس مین بنا دے۔

سابق چئیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ امریکہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کی معاشی، سیاسی اور علاقائی خود مختاری کا احترام کرے۔


متعلقہ خبریں