ملک ریاض سے وصول کی جانے والی رقم حکومت پاکستان کو مل گئی

ملک ریاض

190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس ملک ریاض اور انکے بیٹے کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری


لندن: ملک ریاض کے ساتھ تصفیے کے نتیجے میں ملنے والے 19 کروڑ پاؤنڈز پاکستانی حکومت کو مل گئے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔

اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک ریاض سے حاصل شدہ تمام رقم پاکستان میں منتقل کر دی گئی تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔

گزشتہ روز وزیرریلوے شیخ رشید نے ایک نجی چینل سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ طے ہوا ہے کہ اس معاملے پر کوئی بات نہیں کرنی۔

بدھ کے روز شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرنی تھی جسے ملتوی کر دیا گیا تھا، آج انہوں نے ٹویٹ کے ذریعے پریس کانفرنس کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے سابق وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسن نواز نے مارچ 2016 میں 5 کروڑ پاؤنڈز کے عوض یہ جائیداد ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کو فروخت کی تھی۔

گزشتہ دنوں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے 19 کروڑ پاؤنڈ مالیت کے اثاثے برطانیہ کی تفتیش کار کمپنی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

اگست 2019 میں شہزاد اکبر نے میڈیا کو آگاہ کیا تھا کہ ویسٹ منسٹر عدالت سے آٹھ اکاونٹس منجمد کرنے کے احکامات حاصل کر لیے گئے ہیں۔ اس سے قبل دسمبر 2018 میں بھی عدالت نے دو کروڑ پاؤنڈز کے فنڈز منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

این سی اے کا اعلامیہ

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ تفتیش کاروں کو این سی اے کی جانب سے برطانوی بینکوں میں موجود ایک کروڑ چالیس لاکھ پاؤنڈز کی رقم منجمد کرنے کے نو احکامات ملے تھے۔


نیشنل کرائم ایجنسی کے بیان میں کہا گیا کہ اگست 2019 میں لگ بھگ 12 کروڑ پاؤنڈز فنڈز کے حوالے سے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت سے 8 اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے گئے تھے۔

این سی اے نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ لندن کے علاقے میں قائم 5 کروڑ پاؤنڈز مالیت کی ہائیڈ پارک پیلس نامی عمارت بھی ادارے نے  قبضے میں لے لی ہے۔

یاد رہے کہ 31 جنوری 2018 کو ان ایکسپلینڈ ویلتھ (ایسی دولت جس کے حصول کے ذرائع مشکوک ہوں) قانون کے تحت برطانوی اداروں کو ایسی جائیدادوں کے بارے میں تحقیقات کرنے کا اختیار ملا تھا جنہیں نامعلوم ذرائع سے خریدا گیا ہو۔

ملک ریاض کا موقف

منگل کے روز ملک ریاض نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کو کراچی بحریہ ٹاؤن مقدمے میں 19 کروڑ پاؤنڈ کے مساوی رقم دینے کے لیے برطانیہ میں قانونی طور پر حاصل کی گئی ظاہر شدہ جائیداد کو فروخت کیا ہے۔

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ این سی اے کی پریس ریلیز کے مطابق یہ ایک سِول یعنی دیوانی مقدمہ ہے اور اس میں جرم تسلیم کرنے کا پہلو نہیں نکلتا۔


متعلقہ خبریں