سپریم کورٹ نے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دے دیا


اسلام آباد: سپریم کورٹ پاکستان نے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کر کے فیصلے کا اختیار ہے اور نیپرا قانون کے مطابق کے الیکٹرک بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کا فیصلہ کرے۔

عدالت نے 10 دن میں نیپرا ٹربیونل کے ممبران کو تعینات کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

عدالت نے اپنے جاری کردہ حکم میں کہا کہ سیکشن 26 کے اختیار کے استعمال پر کوئی عدالت حکم امتناع نہیں دے سکے گی۔ عدالت نے کے الیکٹرک کے نیپرا اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع بھی خارج کر دیا۔

عدالت نے نیپرا سے کارروائی پر مبنی رپورٹ بھی طلب کر لی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج کراچی میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ کہاں ہے وفاقی حکومت ؟ شہر کی دیکھ بھال کی ذمہ دار حکومت ہے اور ہمیں علم ہے کہ کراچی کے کرتا دھرتا کچھ نہیں کریں گے بلکہ وہ تو شہریوں کے منہ سے نوالا بھی چھین لیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جس دن سے نوٹس لیا ہے شہر کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے اور شہر سے سارا جوس نکال لیا ہے جو چند قطرے بچے ہیں وہ بھی نکال رہے ہیں۔

گزشتہ روز نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کےالیکٹرک پر 20 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا۔ جرمانہ جون اور جولائی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کیا گیا۔

یاد رہے کہ نیپرا کی تحقیقاتی کمیٹی کراچی میں لوڈشیڈنگ کی ذمہ دار کے الیکٹرک کو قرار دے چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے کےالیکٹرک پر 20 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے کراچی میں لوڈشیڈنگ پر رپورٹ جمع کرائی تھی، جس کی سفارشات کی روشنی میں کےالیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

نیپرا کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بجلی بحران کی وجہ ایندھن کی کمی قراردینا غلط ہے۔ کے الیکٹرک نے بجلی کی پیداوار کے لیے سرمایہ کاری نہیں کی اور نہ سوئی سدرن سےمعاملات طے کیے۔


متعلقہ خبریں