موٹروے زیادتی واقعہ: متاثرہ خاتون کی بیان ریکارڈ کرانے سے معذرت

موٹرے زیادتی واقعہ: متاثرہ خاتون کی بیان ریکارڈ کرانے سے معذرت

لاہور: موٹروے پر زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرانے سے معذرت کرلی۔

ذرائع ہم نیوز کے مطابق پولیس نے متاثرہ خاتون سے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے رابطہ کیا تاہم خاتون کے اہل خانہ نے فی الوقت بیان ریکارڈ کرانے سے معذرت کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: موٹر وے پر خاتون سے زیادتی: ن لیگی خواتین ارکان اسمبلی میدان میں آ گئیں

خاتون کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ خاتون کی حالت ایسی نہیں کہ وہ بیان ریکارڈ کروا سکیں۔ خاتون کے اہل خانہ کے انکار کے بعد پولیس تاحال متاثرہ خاتون کا بیان حاصل نہیں کرسکی ہے۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن  ذیشان اصغر کا اس بابت کہنا ہے کہ خاتون کی حالت کو سمجھ سکتے ہیں، متاثرہ خاتون کا بیان اس وقت قلمبند کریں گے جب ان کے لیے ممکن ہو گا۔

خیال رہے کہ تین روز لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے زیادتی کیس: تین روز بعد بھی ملزمان قانون کی گرفت سے باہر

متاثرہ خاتون اپنی کار میں دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ موٹروے پر دو نامعلوم افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، طلائی زیورات اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔

رپورٹس کے مطابق دو افراد نے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب لاہور موٹر وے زیادتی کیس کے ملزمان تین روز گزرنے کے باوجود بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی ملزم گرفتارنہیں ہوا تاہم پولیس دن رات ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: علی زیدی سی سی پی او لاہور کے موٹر وے واقعہ سے متعلق بیان پر برس پڑے

گزشتہ روز موٹروے پر مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار بننے والی خاتون کا اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرنے والے 2 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔


متعلقہ خبریں