چونیاں میں بچوں سے زیادتی کیس: مجرم کو دیگر 2 کیسز میں بھی سزائے موت


لاہور: انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے چونیاں میں بچوں سے بدفعلی کرنے کے بعد انہیں قتل کرنے والے پہلے سے سزائے یافتہ مجرم کو دیگر 2 کیسز میں بھی سزائے موت سنادی

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے چونیاں میں 4 بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سہیل شہزاد کو 2 مقدمات میں مجموعی طور پر6 بار سزائے موت سنادی۔

عدالت نے مجرم کو 2 بارعمر قید اور 64 لاکھ  روپے جرمانہ کی سزا سنادی۔ عدالت نے مجرم کا 342 کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد فیصلہ سنادیا۔

خیال رہے کہ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے سہیل شہزاد کو جرم ثابت ہونے پر پہلے ہی سزائے موت کی سزا سنادی ہے۔

مزید پڑھیں: کمسن بچوں سے زیادتی کے مقدمات کا ان کیمرا ٹرائل کرنے کا فیصلہ

یاد رہے کہ پولیس نے بچوں کو قتل کرنے والے مجرم سہیل شہزادہ کو یکم اکتوبر 2019 میں گرفتاری کیا تھا۔ بعد میں چونیاں واقعے کے ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا تھا۔

گرفتاری اور تفتیش کے بعد 28 سالہ  سہیل شہزادہ کا کیس انسداد دہشت گردی (اے ٹی سی) کی عدالت میں بھیج دیا گیا تھا اور اس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال چونیاں میں جون ستمبر تک 8 سے 12 سال کی عمر کے 4 بچے لاپتہ ہوگئے تھے جبکہ 16 ستمبر کی رات کو 8 سالہ فیضان لاپتہ ہوا تھا۔ ان میں سے 3 بچوں کی لاشیں 17 ستمبر کو چونیاں بائی پاس کے قریب مٹی کے ٹیلوں میں سے ملی تھیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ سے رپورٹ طلب کرلی تھی۔

بعد ازاں یکم اکتوبر کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چونیاں واقعے کے مجرم سہیل شہزاد کی گرفتاری کا اعلان ایک تفصیلی پریس کانفرنس کیا تھا۔

وزیراعلیٰ نے تصدیق کی تھی کہ سہیل شہزاد  ریپ کے بعد قتل ہونے والے ان چاروں کیسز کے پیچے تھا۔

 


متعلقہ خبریں