نامور برطانوی صحافی رابرٹ فسک انتقال کر گئے


لندن:  مشرق وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھنے والے نامور برطانوی صحافی رابرٹ فسک  77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صحافت کے بڑے نام رابرٹ فسک دو روز قبل بیمار ہوئے تھے جس کے بعد انھیں ڈبلن کے سینٹ ونسنٹ اسپتال میں لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رابرٹ فسک نے مشرق وسطیٰ میں طویل مدت تک صحافت کی اور اسی رپورٹنگ کی بنیاد پر انھیں متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی پر اُن کی جانب سے کی گئی شدید تنقید نے انھیں مختلف ملکوں میں متنازع بھی بنادیا تھا۔

رابرٹ فسک طویل عرصے تک برطانوی اخبار اور ویب سائٹ انڈیپنڈنٹ کے لیے مشرق وسطیٰ سے رپورٹنگ کرتے رہے۔ وہ باقاعدگی سے انڈیپنڈنٹ کے لیے ہفتہ وار کالم اور دیگر عالمی جریدوں کے لیے بھی لکھتے  رہے۔

اس کے علاوہ اپنے ابتدائی دور صحافت میں رابرٹ فسک دی ٹائمز، نیویارک ٹائمز اور سنڈے ایکسپریس سے بھی منسلک رہے۔

مزید پڑھیں: صحافت کو وہ مقام نہیں ملا جو ملنا چاہیے تھا، شبلی فراز

اپنے صحافتی کیریئر کے دوران انہوں نے، لیبنان، الجیریا اور شام میں خانہ جنگی، ایران عراق تنازعہ، بوسنیا اور کوسوو میں جنگیں، افغانستان پر سویت حملہ، ایران میں اسلامی انقلاب، صدام حیسن کا کویت پر حملہ، افغانستان اور عراق پر امریکی حملے سے متعلق فیلڈ رپورٹنگ کرتے رہے۔

رابرٹ فسک نے تین دفعہ الگ الگ موقعوں پر القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کے انٹرویوز بھی کیے۔

بقول رابرٹ فسک  ایک انٹرویو کے دوران اسامہ بن لادن نے ان سے کہا کہ ہمارے ایک مجاہد بھائی کا خواب تھا کہ آپ ایک روحانی شخصیت ہیں اور اس کا مطلب ہے کہ آپ ایک سچے مسلمان ہیں۔ جس پر رابرٹ فسک نے کہا کہ شیخ اسمامہ میں مسلمان نہیں ہوں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق رابرٹ فسک نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کے حوالے سے کہا تھا کہ وہ ایک ایماندار سیاستدان ہیں۔

رابرٹ فسک کی لکھی ہوئی کتابوں میں دی گریٹ وار فار سول لائزیشن (The Great for Civilisation)، دی پوائنٹ آف نو ریٹرن (The Point of No Return)، ان ٹائم آف وار (In Time of War) وغیرہ شامل ہیں۔

 


متعلقہ خبریں