پشاور: پشاور چڑیا گھر میں ایک اور زرافہ ہلاک ہوگیا ہے۔ رواں سال نو ماہ کے دوران پشاور چڑیا گھر میں یہ چوتھے زرافے کی ہلاکت ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر پشاور چڑیا گھر اشتیاق نے زرافے کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زرافہ بیمار تھا اور اس کا علاج چل رہا تھا، دوران علاج زرافہ چل بسا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر پشاور چڑیا گھر کے مطابق زرافے کی طبیعت کئی دن سے خراب تھی۔ زرافہ کا علاج کیا گیا لیکن جانبر نہ ہوسکا۔ ہلاک ہونے والے زرافے کی قیمت 1 کروڑ روپے تھی۔
انہوں نے بتایا کہ زرافہ سردی سے نہیں بلکہ وائرل انفیکشن کے باعث ہلاک ہوا۔ پشاور چڑیا گھر کے 3 زرافوں میں اب 2 رہ گئے ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر چڑیا گھر اشتیاق کے مطابق باہر ممالک سے پاکستان لائے جانے والے تمام زارافے چڑیا گھروں میں مر گئے ہیں۔
واضع رہے کہ رواں سال اپریل، مئی اور جون کو پشاور کے چڑیا گھر میں تین زرافے ہلاک ہوئے تھے۔
محکمہ جنگلات وائلڈ لائف خیبرپختونخوا نے زرافوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھاکہ اپریل اور مئی میں 2 زرافے ڈائریا اور وائرس سے ہلاک ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ پشاور چڑیا گھر کے قیام پر تین زرافے افریقہ سے لائے گئے تھے۔
پشاور کے چڑیا گھر میں جانوروں کی اموات کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور اب تک صوبائی حکومت کسی بھی جانور کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں کاون ہاتھی کی چڑیا گھر سے منتقلی پر امریکی گلوکارہ حکومت پاکستان کی شکرگزار
پشاور چڑیا گھر میں ہلاک ہونے والے برفانی چیتے کی تحقیقات بھی سرد خانے کی نذر ہو چکی ہے اس سے قبل ہرن اور بندر کی بھی ہلاکت ہوئی تھی جس کی کوئی وجہ سامنے نہیں آسکی۔
گزشتہ سال ستمبر میں پشاور چڑیا گھر انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ننھا بھالو فرار ہوگیا تھا جو تین روز کی تلاش کے بعد پکڑا گیا۔
چڑیا گھر انتظامیہ کی طرف سے مساجد سے اعلانات بھی کرائے گئے تھے کہ چڑیا گھر کے قریبی مکین ہوشیار رہیں اور پتہ چلنے کی صورت میں چڑیا گھر انتظامیہ کو مطلع کریں۔
پشاور چڑیا گھر کی نااہلی اور بد انتظامی کا کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی یہاں کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔
چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق ننھے ریچھ کی عمرصرف دو ماہ تھی اس لیے وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکا۔ ننھے بھالو کو دیر وائلڈ لائف کی جانب سے دو روز قبل پشاورچڑیا گھر منتقل کیا گیا تھا۔