کورونا ویکسین لگانے میں امیر غریب کا فرق نہیں دیکھا جائیگا، وزیراعظم


اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین لگانے میں امیر غریب کا فرق نہیں دیکھا جائے گا۔

ملک میں کورونا ویکسینیشن کا عمل 3 فروری سے شروع ہو گا

ہم نیوز کے مطابق عوام سے براہ راست رابطے کے سلسلے میں اعلان کردہ ’ آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ ‘ پروگرام میں عوام الناس کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ کورونا ویکسین ایک طریقہ کار کے تحت لگائی جائے گی۔

پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ٹوئٹ پیغام دیا گیا تھا کہ یہ پروگرام براہ راست نشر ہوگا۔

وفاقی وزیر حماد اظہر کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں کورونا ویکسین آج ہی پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسی کے تحت سب سے پہلے کورونا ویکسین ہیلتھ ورکرزکو لگائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکرزکے بعد بزرگ شہریوں کو کورونا ویکسین لگائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پوری کوشش ہوگی کہ رواں سال تمام شہریوں کو کوروناویکسین فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو پارٹی سسٹم میں تیسری پارٹی کا اقتدار میں آنا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں جو کام کیے اس پر لوگوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں ہمیشہ بڑے بڑےاہداف رکھے۔

کورونا ویکسین ہر سال لگوانے کی ضرورت پڑے گی ؟

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ ملک ریاست مدینہ کے اصولوں پرعظیم ریاست بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ نبیﷺ نے کہا میری بیٹی بھی غلطی کرے گی توسزا ملے گی۔ انہوں ںے کہا کہ ریاست مدینہ میں میرٹ تھی اور انسانی حقوق تھے۔

نیوز کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ہمارے نبیﷺ کا آخری خطبہ انسانی حقوق چارٹرکی عظیم مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سیرت النبیﷺ کا مضمون پڑھانے کی تجویز زیرغور ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گلگت بلتستان دنیا میں بڑا سیاحتی مرکزبن سکتا ہے۔ انہوں ںے کہا کہ گلگت بلتستان میں سوئٹزرلینڈ سے زیادہ سیاحتی پوٹینشل ہے۔ انہوں ںے کہا کہ پن بجلی سے مستفید ہونے کے لیے گلگت بلتستان میں گرڈا سٹیشن بنائیں گے۔

وزیراعظم سے آرمی چیف کی ملاقات، سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا علاقہ بہت بڑا ہے اور آبادی کم ہے۔ انہوں ںے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی کام آسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سیاسی لوگوں نے بھی اس علاقے کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مضبوط بلدیاتی نظام بہت ضروری ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے عوام کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے لیے ملکی تاریخ  کا بڑا پیکیج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ سہولیات نہ دینےکی وجہ سیکیورٹی بھی تھی کیونکہ دہشت گرد بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نیا پاکستان ہاوَسنگ منصوبہ اس لیے لائے کہ غریب لوگ بھی اپنا گھر بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ  اور ملائیشیا سمیت دیگر ممالک میں لوگ بینکوں سے قرض لیکرگھربناتے ہیں۔

پی ڈی ایم اپنی موت آپ مر گئی، وزیراعظم

عوام الناس کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ باہرکے ممالک میں گھر لینے کے لیے 80 فیصد افراد بینکوں سے قرضہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسان قرضہ جات کے لیے اب بینک خود اشتہار دے رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ تنخواہ دارطبقے اورمزدوروں کو مکانات کی تعمیرکے لیے رعایتی قرضےفراہم کیے جا رہے ہیں۔

فضل الرحمان کرپٹ آدمی ہیں، ان کو مولانا کہنا علما کی توہین ہے، وزیراعظم

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مغرب کو نہیں پتہ ہم اپنے نبیﷺ سے ہرچیز سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف صدرایردوان اور میں نے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس واقع کے بعد تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو خطوط  لکھے۔

وزیراعظم عمران خان نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کے لیے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ پیسہ اکھٹا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے قبضہ گروپوں کو پناہ دی ہوئی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی کی حکومتوں نے قبضہ مافیا کو پالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں اپوزیشن نے خود کو عذاب میں ڈالا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن زمینوں پر بلڈوز کیا جا رہا ہے ان پر انہوں نے قبضہ کیا ہوا تھا۔

ایک سوال پر وزیراعظم عمران خان نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کہہ سکتے ہیں کہ اسامہ بن لادن سے پیسے نہیں لیے تھے؟ انہوں نے کہا کہ کیا فضل الرحمان بتا سکتے ہیں کہ وہ پارٹی کیسے چلاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں تو آج بھی نمل اور شوکت خانم کے لیے پیسے اکھٹے کرتا ہوں۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ پرانے سسٹم کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔ انہوں ںے کہا کہ ہمیں جنہوں نے فنڈز دیا ان 40 ہزار ڈونرز کے نام ہمارے پاس موجود ہیں۔

مریم نواز کچھ بھی کر لیں، عمران خان پاکستان پر اللہ کا احسان ہے: شہباز گل

وزیراعظم ںے دعویٰ کیا کہ ماضی میں اداروں کو تباہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں میرٹ کے بغیر بھرتیاں کی گئیں۔ انہوں ںے کہا کہ 1993 میں 25 ہزارلوگوں کو سیاسی بنیاد پرپنجاب پولیس میں بھرتی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں دو بڑے ڈاکوؤں نے جس طرح ملک کو لوٹا، اسے ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔

کلاس روم میں بیٹھے وزیراعظم عمران خان کی تصویر وائرل

ہم نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آنےوالےدنوں میں قومی ٹیم بہترہوتی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل مجھے ایکسرسائز کے لیے زیادہ وقت نہیں ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے۔


متعلقہ خبریں