پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن: اسکولوں میں انسداد ہراسگی پالیسی نافذ

پنجاب: اسکولوں میں انسداد ہراسگی پالیسی نافذ

لاہور: پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے پارٹنر اسکولوں میں اینٹی ہراسمنٹ پالیسی نافذ کر دی، جس کے تحت  بچوں کو جنسی استحصال سے متعلق تربیت دینا لازمی ہو گا۔

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق اسکولوں میں جنسی لگاو کے برتاؤ کا اظہار کرنا بھی ہراسگی تصور ہو گا جبکہ اسکولز انتظامیہ کے عملے پر اکیلے میں بچوں کے ساتھ ملاقات پر بھی پابندی ہو گی۔

مزید پڑھیں: اداکارہ ثروت گیلانی بچوں کو جنسی تعلیم دینے کے حق میں اٹھ کھڑی ہوئیں

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مراسلے کے مطابق زیر تعلیم بچوں کو جنسی استحصال سے متعلق تربیت دینا ہو گی، پارٹنر اسکولوں کو ترجیحی بنیادوں پر مڈل کلاس میں لڑکے اور لڑکیوں کیلئے الگ الگ کلاس رومز بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے بوس و کنار پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسکول سربراہان کو پاپند کیا گیا ہے کہ وہ کلاس رومز کی حدود میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں اور مانیٹرنگ کے نظام کو سخت کر کے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

مزید پڑھیں: زینب الرٹ بل منظور، اطلاق صرف اسلام آباد میں ہوگا

پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن نے مراسلے میں پارٹنر اسکولوں کو اینٹی ہراسمنٹ پالیسی پر مکمل عمل درآمد کے احکامات بھی جاری کردیے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال  قومی اسمبلی نے قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی زینب کی دوسری برسی پر بچوں کے تحفظ کے لیے ’زینب الرٹ بل‘ متفقہ طور پر منظور کرلیا تھا۔

قومی اسمبلی نے بچوں سے زیادتی پرعمر قید یا کم سے کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال قید بامشقت کی سزا کی منظوری دی تھی۔

زینب الرٹ بل کے تحت گمشدہ بچوں سے متعلق ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا اور جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔


متعلقہ خبریں