کیا اپوزیشن سینیٹ میں ووٹوں کی خرید وفروخت کو روکنا نہیں چاہتی؟ چیف جسٹس


اسلام آباد: سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر اپوزیشن موجودہ طریقہ کار بدلنا نہیں چاہتی تو مطلب ہے یہ ووٹوں کی خرید وفروخت کو روکنا نہیں چاہتی ہے۔

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کی۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے دلائل دیئے کہ الیکشن کمیشن فری اینڈ فیئر الیکشن منعقد کرانے کا پابند ہے۔ اس مقصد کیلئے ایک قانون ہونا لازمی ہے۔ یہ عوام کا حق ہے کہ انہیں علم ہو منتخب رکن کس کوووٹ دے رہا ہے۔ سینیٹ میں ووٹر پہلے اپنی پارٹی نہیں عوام کوجوابدہ ہے۔ صدرمملکت جانناچاہتے ہیں اوپن بیلٹ کیلئے آئینی ترمیم ضروری ہے یا نہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پہلے دن سے اس سوال کا جواب نہیں مل رہا ہے۔ کوئی قانون منتخب رکن کو پارٹی امیدوار کو ووٹ دینے کا پابند نہیں کرتا۔ ووٹ فروخت کرنے کے شواہد پر ہی کارروائی ہوسکتی ہے۔ اوپن ووٹنگ میں ووٹ فروخت کے شواہد نہ ہوں توکچھ نہیں ہو سکتا۔ پارٹی کیخلاف ووٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوسکتی تو مسئلہ کیا ہے؟

مزید پڑھیں: سینیٹ انتخابات:کاغذات نامزدگی کی فراہمی شروع، اخراجات کی حد مقرر

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اوپن بیلٹ کا مقصد سیاستدانوں کو گندہ کرنا نہیں ہے۔ حکومت صرف انتخابی عمل کی شفافیت چاہتی ہے۔ کسی رکن اسمبلی کی ناہلی کے حق میں نہیں ہیں۔ ارکان اسمبلی کااحتساب بیلٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔

اس پر جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ پارٹی کیخلاف ووٹ دینے والوں کا احتساب 5 سال بعد ہو۔ پارٹی کو چاہیے عوام کو بتائے کس رکن نے دھوکہ دیا۔وزیراعظم کو کیسے علم ہوا تھا کہ 20 ایم پی ایز نے ووٹ بیچا۔ نااہلی نہیں تویہ تبدیلی صرف دکھاوا ہوگی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت میں مقدمہ آئینی تشریح کا ہے۔ جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ حکومت نے قانون سازی کرنی ہے تو کرے مسئلہ کیا ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ریفرنس پرعدالتی رائے حتمی فیصلہ نہیں ہوگی۔ حکومت کو ہرصورت قانون سازی کرنا ہوگی۔

عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی۔


متعلقہ خبریں