صدر مملکت نے ذاتی اخراجات سے متعلق قوم کو بتادیا


اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ذاتی اخراجات جیب سے اداکرنے کی تفصیلات قوم کے سامنے رکھ دی ہیں۔

ہم نیوز کے پروگرام نیوزلائن میں ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار سے خصوصی نشست میں صدر پاکستان نے انکشاف کیا کہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کی سیر تفریح اوراس دوران کھانے پینے پر آنے والے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں اورایوان صدر پر ان اخراجات کا بوجھ نہیں ڈالتے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ذاتی مہمانوں کے اخراجات خود اٹھاتا ہوں۔ اپنے گھر کے اخراجات پہلے بھی خود اٹھاتا تھا آج بھی خود اٹھاتا ہوں۔ میرے پروٹوکول کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان کی ہدایت پر ایوان صدر نے انکے کریڈ کارڈ بلز کی تفیصلات جاری کردی ہیں۔ صدر پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کے برعکس انکے کیمپ آفس یا ذاتی گھر کے اخراجات بھی ایوان صدر ادا نہیں کرتا بلکہ وہ یہ تمام خرچے اپنی جیب سے کرتے ہیں۔

صدرمملکت عارف علوی  نے کہا کہ عورتوں کو وراثتی حقوق دلانے کیلئے کوشش کررہے ہیں۔ ملک کے حالات بہتر ہونے تک کفایت شعاری کرنی ہے۔ لوگوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہونے میں کافی وقت لگتا ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ نیب کا قانون کہتا ہے کہ پچھلے 40 سال کا حساب ہوگا۔ اگر پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ پراجیکٹ میں کچھ ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے کہا کہ نمبرز بڑھ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسٹیل ملز انتظامیہ اور افسران قومی خزانے پر بوجھ ہیں، چیف جسٹس

صدر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم سے کہا کہ کرپشن کیخلاف جنگ کئی کئی سال چلتی ہے۔ کرپشن کو ختم کرنے میں وقت لگے گا۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ سے متعلق غلط بیانات دیئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ  دیگر ممالک کی نسبت پاکستان بہتر طریقے سے کورونا صورتحال سے نکلا۔ کورونا وائرس سے متعلق میڈیا نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ کچھ انڈسٹریز کو گیس سے متعلق نقصان ہوا کیونکہ ان کے پاس بجلی کا کنکشن ہی نہیں تھا۔

صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ لانگ ٹرم پالیسی ہو۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج بہت زیادہ بہتری آئی ہے


متعلقہ خبریں