کورونا: چین کا ڈبلیو ایچ او کو ابتدائی کیسز کا ڈیٹا فراہم کرنے سے انکار

کورونا: چین کا ڈبلیو ایچ او کو ابتدائی کیسز کا ڈیٹا فراہم کرنے سے انکار

چین نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو عالمی وبا کورونا وبا کے ابتدائی کیسز سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

عالمی نشریاتی ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے  ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کو ڈیٹا دینے سے انکار کے بعد اس وبا کے پھوٹنے سے متعلق ابتدائی معلومات حاصل کرنے کی کوششوں میں مشکلات پیش آئی ہیں۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کے ممبر ڈومینک ڈائر کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے چین کے شہر ووہان میں دسمبر 2019 میں رپورٹ ہونے والے ابتدائی 174 کورونا کیسز سے متعلق ڈیٹا مانگا تھا تاہم چین نے ان کیسز سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنے کے بجائے ایک مختصر تحریر (سمری) دے دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا: دنیا بھر میں 23 لاکھ 95 ہزار سے زائد اموات

رائٹرز کے مطابق اس طرح کے ڈیٹا کو “لائن لسٹنگ” کہا جاتا ہے جس میں تفصیل ہوتی ہے کہ کورونا کے ان مریضوں سے چین میں کونسے سوالات پوچھے گئے، جس پر ان کا جواب کیا تھا اور ان کے جوابات کا کیسے تجزیہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کسی بھی وبا کے پھیلنے سے متعلق چھان بین یا تفتیش کے لیے یہی معیار ہوتا ہے۔ ڈائر نے مزید بتایا کہ خام اعدادو شمار تک رسائی اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان 174 میں سے صرف آدھے مریضوں نے ووہان کے شہر میں واقع ہونان مارکیٹ کا چکر لگایا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کے ممبر ڈومینک ڈائر نے کہا کہ چین کی طرف سے معلومات نہ دینے سے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ یہ ان کی سیاسی مجبوری ہے یا کچھ اور، اس پر میں تبصرہ نہیں کرسکتا۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ انہیں چین میں کسی جانور سے کورونا وائرس پھیلنے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ عالمی وبا چمکادڑ کے ذریعے انسانوں میں پھیلا ہے تاہم اس کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ وائرس کیسے پھیلا، تاہم اس پر کام جاری ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے کہا ہے کہ وائرس کے چین کی لیب سے پھیلنے والا مفروضہ بھی خارج از امکان ہے۔


متعلقہ خبریں