جنگلات میں درختوں سے لٹکی گڑیاؤں کی ان کہی کہانی

جنگلات میں درختوں سے لٹکی گڑیاؤں کی ان کہی کہانی

انگلینڈ کے علاقے اسٹافورڈ شائر کے جنگلات میں درختوں سے لٹکی ہوئی گڑیائیں دریافت کی گئی ہیں، جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جارہا ہے وہ جنگ عظیم اول کی یادگار ہوسکتی ہیں۔

برطانوی آن لائن اخبار دی میل کے مطابق ان گڑیاؤں کو انگلینڈ کے علاقے اسٹافورڈ شائرڈ کے قریب لاوارث گاؤں  ہیڈنسفورڈ کینک چیس کے جنگلات میں سیر پر جانے والی اسپتال کی ایک خاتون عملہ نے دریافت کیا ہے۔

اسپتال ورکر کے مطابق ان گڑیوؤں کو جنگلات میں درختوں پر ترتیب سے کیل ٹھونک کر لٹکایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ عظیم اؤل کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں کے لیے بنائے گئے ایک اسپتال کے مقام پر درختوں پر لٹکی اور جگڑی ہوئی ان گڑیاؤں کے اعضا تقریباً سلامت ہیں اور یہ غیر متزلزل طور پر گھورتی ہیں۔

وال شال اسپتال میں کام کرنے والی خاتون عملہ کا کہنا ہے کہ یہ گڑیائیں ترتیب سے درختوں پر لٹکائی گئی ہیں اور وہ مسلسل گھورتی رہتی ہیں۔ وہ جنگلات جہاں یہ گڑیائیں دریافت کی گئی ہیں اس کے قریبی گاؤں کے لوگ 1950 کی دہائی میں ہجرت کر کے چلے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگی آگ بے قابو، مختلف حادثات میں 8 افراد ہلاک

اسپتال ورکر کا کہنا تھا کہ جنگلات میں سیر کے دوران انہیں درختوں سے لٹکی ہوئی بوسیدہ نما گڑیائیں نظر آئیں جنہیں درختوں پر کیل سے ٹھونک دیا گیا ہے۔

سیر پر نکلی خاتون نے مزید بتایا کہ جنگلات سے باہر آنے کے بعد انہوں نے ایک اشارہ بورڈ دیکھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ یہ پرانے پنشن اسپتال کا آپریشن تھیٹر ہوا کرتا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ایک روحانی علوم پر کام کرنے والی دوست سے ان گڑیوں سے متعلق بات ہوئی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ دیکھنا چاہتی ہیں آیا وہ گڑیائیں کچھ محسوس بھی کرسکتی ہیں یا نہیں۔

اسپتال کے عملے کا کہنا ہے کہ گڑیاؤں کو دریافت کرنے کے ایک ماہ بعد وہ دوبارہ انہیں دیکھنے وہاں گئی تھیں اور وہ بلکل بھی خوف زدہ نہیں ہوئیں۔ وہ ان جنگلوں میں سیر کرتی رہی، گڑیاؤن سے بات چیت کی اور دعا بھی پڑتی رہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے ان گڑیاؤں سے بات چیت بھی کی اور ان بچوں کی روحوں کے لیے دعا کی جو انہیں چھوڑ کر دار فانی کی طرف کوچ کر گئی تھیں۔

کینک چیس پہلی جنگ عظیم کے دوران برنڈلی ہیتھ اسپتال کا مرکز تھا جہاں پر بیک وقت ایک ہزار کے قریب جنگ میں زخمی ہونے والے فوجیوں کاعلاج کیا جاتا تھا۔

1953 میں برانڈلی گاؤں کے لوگ ہجرت کرکے شہروں کو چلے گئے جس کے بعد اس علاقے کے جنگلات کو قدرتی خوبصورتی کا ایریا قرار دے دیا گیا۔


متعلقہ خبریں