چین اور روس کا چاند پر خلائی اسٹیشن بنانے کا اعلان

چین اور روس کا چاند پر خلائی اسٹیشن بنانے کا اعلان

چین اور روس نے چاند پر مشترکہ خلائی اسٹیشن بنانے کا اعلان کردیا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب روس اپنی پہلی خلائی پرواز کی 60ویں سالگرہ مناے کی تیاری کر رہا ہے۔ سابق سویت یونین یعنی روس نے 1961 میں پہلی بار خلا میں کسی انسان کو بھیجا تھا۔

غیر مللکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس  نے کہا ہے کہ چاند پر یا اس کے مدار میں تجرباتی اور تحقیقی سہولیات کی فراہمی  کیلئے اس نے چین کے خلائی اسٹیشن سے مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کردیے ہیں۔

مزید پڑھیں: چین کا خلائی مشن کامیابی سے مریخ کے مدار میں داخل

دونوں ممالک کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ مشترکہ خلائی اسٹیشن خلائی تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی دستیاب ہوگا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق روس اور چین کا مشترکہ خلائی اسٹیشن کب تیار ہوگا اور اور اس پر کب کام شروع کیا جائے گا اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند سالوں سے چین اپنے خلائی پروگرام پر خصوصی توجہ دے رہا ہے اور چین امریکا کے بعد خلائی پروگرام میں سرمایہ کاری کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ چین روس اور جاپان سے بھی زیادہ عسکری اور سویلین مشن خلا میں بھیج رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مشترکہ قمری اسٹیشن وسیع پیمانے پر سائنسی تحقیق کرے گا جس میں چاند پر تلاش اور اس کی بھرپور تحقیق شامل ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین نے اپنا خلائی مشن چینگ فائیو مشن کامیابی سے چاند پر اترا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چاند کی مٹی اور پتھر زمین پر لانے کیلیے ناسا نے نجی کمپنیوں سے مدد حاصل کرلی

چینگ فائیو مشن کا مقصد چاند کی زمین سے مٹی اور پتھروں کے نمونے اکٹھے کر کے واپس زمین پر لانا ہے۔ اس مشن کے دوران چاند گاڑی اگلے چند دن چاند کی سطح پر گزارے گی  اور علاقے کی ارضیاتی خصوصیات جانچنے کے لیے مواد اکٹھا کرے گی۔

یہ چاند گاڑی کیمرہ، سپیکٹرو میٹر اور ریڈار سمیت کئی آلات سے لیس ہے۔

چاند گاڑی چاند کی سطح سے تقریباً دو کلو مٹی اکٹھا کر کے چاند کے مدار میں گردش کرتے ربوٹک خلائی جہاز کے دوسرے حصے کے ذریعے زمین تک بھجوائے گی۔


متعلقہ خبریں