جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کے بینک اکاؤنٹس منجمد

جہانگیر ترین

لاہور: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر خان ترین ، ان کے صاحبزادے علی ترین اور ان کی اہلیہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے ہیں۔

بڑے بڑے مافیاز کو قانون کے نیچے لا رہے ہیں، وزیراعظم

یہ دعویٰ ایک خلیجی اخبار نے ایف آئی اے کے ذمہ دار ذرائع سے کیا ہے۔ اخبار کے مطابق ایف آئی اے کے افسر نے یہ بات نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ بتائی ہے۔

منی لانڈرنگ کے الزامات کا جواب دینے جمعہ کے دن لاہور میں ایف آئی اے کے دفتر میں تفتیشی حکام کے سامنے جہانگیر ترین پیش ہوئے تھے۔

اخبار کے مطابق انہوں نے دو گھنٹے تک ایف آئی اے افسران کو جوابات دیے جب کہ ان سے قبل ان کے صاحبزادے علی ترین بھی پیش ہوئے تھے۔

جہانگیر ترین نے پاور شو کیلئے ہم خیال گروپ کے اعزاز میں عشائیہ رکھ لیا

ایف آئی اے کے اعلٰی افسر نے خلیجی اخبار اردو نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ منی لانڈرنگ کے اس مقدمے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش مکمل ہونے تک جہانگیر ترین، ان کے بیٹے علی ترین اور اہلیہ کے بینک اکاونٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔

اس حوالے سے ایف آئی اے نے متعلقہ اداروں سے درخواست کی تھی جس پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ علی ترین کے 21، جہانگیر ترین کے 14 اور ان کی اہلیہ کا ایک اکاؤنٹ منجمند کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے افسر کے مطابق ان کے یہ اکاؤنٹس مختلف سرکاری اور نجی بینکوں میں تھے۔ کل 9 بینکوں کے کھاتے منجمد ہونے کے بعد اب تحقیقات مکمل ہونے تک ان کو استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔

کیا جہانگیر ترین پی ٹی آئی چھوڑ رہے ہیں؟ اندرونی کہانی سامنے آ گئی

22 مارچ کو جہانگیر تین اور ان کی خاندان کے دیگر افراد کے خلاف ایف آئی اے نے دو مقدمات درج کیے تھے جن میں الزام لگایا تھا کہ ترین فیملی کے افراد نے پبلک لمیٹڈ کمپنی جے ڈی ڈبلیو سے اربوں روپے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیے جو کہ غیر قانونی تھا۔ ایک مقدمہ منی لانڈرنگ جبکہ دوسرا بینکنگ فراڈ سے متعلق ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق بند کیے جانے والے 36 اکاؤنٹس میں سے چار اکاؤنٹس امریکی ڈالرز جب کہ دو برطانوی پاؤنڈز اور تین پاکستانی کرنسی کے اکاؤنٹس تھے۔

جہانگیر ترین نے دو روز قبل عدالت سے اپنی عبوری ضمانت کروانے کے بعد میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کے اکاؤنٹس بند کیے جارہے ہیں۔

جس پر بھی الزامات ہیں قانون کا سامنا کرے، وزیراعظم 

اخبار کے مطابق جہانگیر ترین جب ایف آئی اے کے دفتر آئے تو اس وقت ان کے ساتھ ان کا ایک سیکریٹری تھا۔ اس سے قبل جب انہوں نے عدالت سے عبوری ضمانت کروائی تو اس وقت تحریک انصاف کے متعدد اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ان کے ساتھ عدالت آئے تھے۔


متعلقہ خبریں