تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر وزیراعظم اسمبلی میں پالیسی بیان دیں، شاہد خاقان


پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دنیا کے سارے مسلمان تحفظ ناموس رسالتﷺ پر متفق ہیں۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جو اجلاس جمعرات تک ملتوی کیا گیا اس کو آج بلا لیا۔ اپوزیشن سے حکومت نے رابطہ کیا اور نہ ہی اسپیکر نے رابطہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالتﷺ سے متعلق آج قومی اسمبلی میں قرارداد حکومت نے نہیں بلکہ ایک نجی ممبر نے پیش کی اور قرارداد کا متن اپوزیشن کو نہیں دکھایا گیا۔ قرارداد پیش کرنے سے پہلے اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیاگیا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت خفیہ معاہدے کرتی ہے اور پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا ہے۔ وزیراعظم اور وزرا میں قرارداد لانے کی ہمت نہیں۔ قرارداد جس مقصد کےلیے تھی وہ ناکافی ہے۔ جامع قرارداد نہ آسکے تو پھر اسمبلی چلانے کی ضرورت نہیں۔

مزید پڑھیں: ناموس رسالت کے معاملے پر پوری قوم متحد اور یک زباں ہے، وزیراعظم

ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایوان میں بات ہی نہیں کرنے دیتے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے۔ اسپیکر اسد قیصر تحفظ ناموس رسالت پر بات نہیں کرنے دیں گے تو آج جو ہوا آئندہ اس سے بھی بدتر ہوگا۔ اسپیکر اور وزرا کو کچھ سمجھ نہیں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف اپوزیشن کا نہیں تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ روز کہا کہ سفیر کو نہیں نکال سکتے۔ حکومت پارلیمان میں کہتی ہے سفیر کے معاملے پر بحث کرائیں۔ حکومت سے متفقہ قرارداد پیش کرنے کیلئے ایک گھنٹے کی مہلت مانگی۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیراعظم ایوان میں آئیں اور حکومت کی پالیسی بیان کریں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے آج رولز بلڈوز کرنے کی کوشش کی۔ اسپیکر نے 72 گھنٹے کیلئے ایوان موخر کر کے راہ فرار اختیار کی۔ تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر وزرا وزیراعظم کی خوشامد کر رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ایوان میں نہ آنا ذاتی فیصلہ ہے۔ وزیر مذہبی امور لوگوں کو جمع کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔وزیر مذہبی امور اپوزیشن کےلیے فتویٰ جاری کر رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں