بھارت میں جنگی صورت حال جیسی ایمرجنسی: آکسیجن ختم، اسپتالوں نے بینرزلگا دیے

ُپاکستان: کورونا سے مزید 85 افراد جاں بحق، مجموعی اموات 25 ہزار سے تجاوز

کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب بھارت بھر میں جنگی صورت حال جیسی ایمرجنسی پیدا ہوگئی ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران ہندوستان بھر میں کورونا وائرس سے مزید 2،624 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

اب تک بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد 1 کروڑ 70 لاکھ کے قریب ہوگئی ہے جبکہ 1 لاکھ 90 ہزار کے قریب افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ کورونا سے ہلاکتوں کے باعث  میتوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے بھی جگہ کم پڑنے لگی ہے۔ بڑے بڑے پرائیویٹ اور سرکاری اسپتال آکسیجن کی فراہمی کے لیے دہائیاں دے رہے ہیں۔ اسپتالوں کے باہر مریضوں کی لائنیں لگی ہیں۔

بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران مختلف ریاستوں میں آکسیجن کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ کووڈ 19 سے شدید طور پر متاثر مریضوں کو آکسیجن پر رکھا جارہا ہے۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے تمام ریاستوں سے ناخوشگوار خبریں بھی آرہی ہیں۔

جہاں ایک طرف اسپتالوں میں داخل مریض آکیسجن کی عدم دستیابی کی وجہ سے جان کی بازی ہار رہے ہیں وہیں انڈیا میں روز بروز نئے متاثرین کی تعداد کا نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوتا جا رہا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق آکسیجن ختم ہونے پر اسپتالوں نے بینرز لگا دیے ہیں جبکہ لوگ سلنڈر سڑکوں پر اٹھا کر آکسیجن ماسک لگائے پڑے ہوئے ہیں۔ بھارت بھر میں لاشیں اٹھانے کے لئے گاڑیاں نہیں جبکہ جلانے کے لیے لکڑیاں نہیں مل رہی ہیں۔

ہنگامی حالات کے پیش نظر ہندوستان بھر کے اسپتالوں  نے اایس او ایس کے ذریعے کہا ہے کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مریض دم توڑ رہے ہیں کیونکہ کووڈ-19 کیسز کے نئے ریکارڈ قائم ہورہے ہیں۔

بھارت میں ہفتے کے روز 346،786 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اواس پچھلے تین دن میں یہ تعداد 10 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ دہلی کے جے پور گولڈن اسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے راتوں رات 20 افراد کی موت ہوگئی۔

مزید پڑھیں: بھارت: کورونا بحران، فیصل ایدھی نے مدد کی پیشکش کردی

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں اکسیجن اور ادویات کی ترسیل کے لیے ٹرینیں اور فضائیہ تعینات کررہی ہے۔

درین اثنا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کہا کہ ہندوستان میں کورونا کی ابتر صورتحال اس وائرس کے تباہ کن اثرات کی یاد دہانی کراتی ہے۔

انڈین دارالحکومت نئی دہلی کے ہسپتالوں کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ حالات قابو سے باہر ہونے کی نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ ہولی فیملی ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے تمام یونٹ بھر چکے ہیں اور مزید کسی مریض کی گنجائش نہیں۔

ڈاکٹر سمت رائے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ہولی فیملی ہسپتال کی بات نہیں بلکہ ہر ہسپتال میں صورتحال نازک ہے۔ اگر آکسیجن ختم ہو گئی تو کئی مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔

ان کا مزید بتانا تھا کہ ’وہ مر جائیں گے۔ چند منٹ میں وہ مر جائیں گے۔ مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں۔ انھیں مسلسل اور زیادہ آکیسجن درکار ہے۔ آکسیجن رکی تو ان میں سے زیادہ تر مر جائیں گے۔‘

اس سال کے شروع میں ہندوستانی حکومت کا خیال تھا کہ اس نے وائرس کو شکست دی ہے۔ اس سال فروری کے وسط تک کورونا کے نئے کیسز گیارہ ہزار تک کم ہوگئے تھے، بھارت سے ویکسین برآمد کی جارہی تھی اور مارچ میں وزیر صحت نے کہا تھا کہ ہندوستان وبائی مرض کو شکست دینے کے آخری مرحلےمیں ہے۔

تاہم اس کے بعد کورونا وائرس کا ایک نیا طوفان شروع ہوا جو نئی شکلوں میں ظہور  ہوا اور ساتھ ساتھ بڑے  پیمانے پر اجتماعات  بشمول کمبھ میلہ ہوا جہاں ہزاروں کی تعداد میں زائرین کو کورونا وائرس لگا۔

 

 


متعلقہ خبریں