طالبان کے حملے، ایک ہزار سے زائد افغان فوجی جان بچا کر تاجکستان پہنچ گئے

ایک ہزار سے زائد افغان فوجی جان بچا کر تاجکستان پہنچ گئے

دوشنبے: ایک ہزار سے زائد افغان فوجیوں نے طالبان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد تاجکستان کا رخ کر لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تاجکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا ہے طالبان کے حملوں کے بعد ایک ہزار 37 افغان فوجی اہلکاروں نے اپنی جان بچاتے ہوئے تاجکستان کا رخ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اچھے ہمسائے کے اصولوں اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے افغان حکومتی فورسز کے عسکری اہلکاروں کو تاجکستان کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔

اس سے قبل سینکڑوں افغان دستے مئی کے اوائل میں طالبان کے حملوں کی وجہ سے تاجکستان کی حدود میں پہلے ہی داخل ہو چکے تھے۔

دوسری جانب افغان صدر کے قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب نے کہا ہے کہ سرکاری افواج شمالی صوبوں میں طالبان کے خلاف جوابی کارروائی میں تیزی لا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرکاری افواج کو طالبان کے حملوں کی توقع نہیں تھی لیکن اب ان کے خلاف جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔

واضح رہے کہ ایک طرف تو امریکی اور بین الاقوامی فوجی دستوں کا افغانستان سے انخلا ہو رہا ہے تو دوسری جانب طالبان کی جانب سے شمالی افغانستان میں حالیہ ہفتوں میں کئی بڑی جارحانہ کارروائیاں کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تمام غیر ملکی افواج کو افغانستان چھوڑنا ہوگا

طالبان نے بدخشاں صوبے کے 6 اضلاع کا ’مکمل کنٹرول‘ سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے۔ عسکریت پسندوں نے افغانستان کے درجنوں اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے جس سے یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ ستمبر میں امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد افغان فوج کو طالبان کے سامنے جھکنا پڑے گا۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے رواں سال  گیارہ ستمبر کے حملوں کی بیسویں سالگرہ تک امریکی افواج کو افغانستان سے انخلا کا حکم دیا ہے۔


متعلقہ خبریں