صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

ویڈیو ریکارڈ اور یوٹیوب پروگرام پر پابندی، سپریم کورٹ داخلے کے نئے شرائط سامنے آگئے

سپریم کورٹ نے صحافیوں کی ہراساں کرنے کے خلاف درخواست سماعت کے لئے مقررکردی ہے۔

جسٹس اعجازلاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ30اگست کو سماعت کرے گا۔ بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی امین بھی شامل ہیں۔ درخواست پر سماعت30اگست کو دن ساڑھے بارہ بجے ہوگی۔

صحافیوں کی دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اہم میں سے اکثر نے یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے نیوز شوز شروع کیے لیکن ہمیں ہراسانی، اٹھائے جانے، تشدد، ڈرانے، گولی مارنے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی شہری ہیں لیکن آزادانہ طور پر کام کرنے سے قاصر ہیں۔

خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پریس ایسو سی ایشن آف سپریم کورٹ کی جانب سے ملک بھر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف دائر آئینی د رخواست پراز خود نوٹس لیا تھا۔

قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے از خود نوٹس پر عمل درآمد روک دیا تھا اور بعد میں فیصلہ دیا تھا کہ ازخود نوٹس کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہے۔

صحافیوں کی درخواست پر سماعت کیلئے اب قائم مقام چیف جسٹس نے خود بینچ تشکیل دیا ہے اور اپیل سماعت کیلئے مقرر کر دی ہے۔

 

 


متعلقہ خبریں