متحدہ مجلس عمل آج لاہور میں اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرے گی


لاہور:  متحدہ مجلس عمل( ایم ایم اے) آج لاہور میں مینار پاکستان پراپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرے گی۔

چند سالوں کے بعد ازسرنو تشکیل پانے والے ایم ایم اے  کا پنجاب میں یہ پہلا جلسہ ہے جس کی تیاریاں اورسیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پنڈال میں میڈیا انکلوژر، ہیوی ساؤنڈ سسٹم اورلائیٹنگ پولز نصب کر دیئے گئے ہیں۔ جلسہ گاہ کے تمام داخلی راستوں پر آنے والے افراد کو نصب واک تھرو گیٹس سے گزرنا ہوگا۔ شرپسند عناصر کوجلسہ گاہ میں داخلے سے روکنے کے لیے چیکنگ کے بھی انتظامات کئے گئے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں کے قائدین کے لیے200 فٹ لمبا اور 60 فٹ چوڑا سٹیج تیار کیا گیا ہے۔ شرکائے جلسہ کے بیٹھنے کے لیے پنڈال میں کرسیاں لگا دی گئی ہیں۔

پولیس اہلکاروں کے ساتھ ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے کارکنان بھی سیکیورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے ۔

اطلاعات کے مطابق ایم ایم اے جلسے میں اپنا انتخابی منشورپیش کرے گی۔ متحدہ مجلس عمل کے قائدین شرکائے جلسہ کو آئندہ کا سیاسی لائحۃ عمل بتائیں گے اور الیکشن مہم کے باقاعدہ آغاز کا اعلان بھی کریں گے۔

جلسہ انتظامیہ سے ملنے والی اطلاع کے مطابق متحدہ مجلس عمل کے صد ر مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق سمیت دیگر مرکزی قائدین کا خطاب شام چھ بجے ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ 13 مئی کو مینار پاکستان پرہونے والا ایم ایم اے کا جلسہ ملکی تاریخ بدل دے گا۔

ملک کی دینی سیاسی جماعتوں نے 2008 کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے عام انتخابات میں حصہ لیا تھا اورصوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت قائم کی تھی۔ دینی سیاسی جماعتیں ایم ایم اے کے قیام سے قبل ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر یکجا ہوئی تھیں۔

متحدہ مجلس عمل اور ملی یکجہتی کونسل کی قیادت جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ علامہ شاہ احمد نورانی (مرحوم) نے کی تھی۔ ایم ایم اے میں شامل جماعتیں اس وقت سیاسی طور پر ’بکھر‘ گئی تھیں جب سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کو یونیفارم میں صدر منتخب کرا نے کا معاملہ درپیش تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ دنوں مینار پاکستان پر جلسہ منعقد کرکے آئندہ عام انتخابات 2018 کے لیے پارٹی کا انتخابی منشور پیش کیا تھا۔


متعلقہ خبریں