مشرف کی پارٹی صدارت سے متعلق انٹراکورٹ اپیل دائر

مشرف فوت ہوگئے تو لاش3 دن ڈی چوک پر لٹکائی جائے، جسٹس وقار

فائل فوٹو


لاہور: پرویز مشرف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے لیے دائر درخواست مسترد ہونے پر انٹراکورٹ اپیل دائر کردی گئی ہے۔

وکیل محمد آفاق نے لاہورہائی کورٹ میں پرویزمشرف کو عہدے سے ہٹانے اور آل پاکستان مسلم لیگ پر پابندی کے لیے انٹراکورٹ اپیل دائر کی ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے 27 اپریل کو قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر درخواست مسترد کی۔ پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹانے اور اے پی ایم ایل پر پابندی سے متعلق سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قراردیا جائے۔

وکیل محمد آفاق کا مؤقف ہے کہ سنگل بنچ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو پچاس ہزار روپے جرمانے کا بھی حکم دیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے  پرویز مشرف کو پارٹی صدارت کے عہدے سے ہٹانے کے لیے وکیل محمد آفاق کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی تھی۔

لاہورہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے درخواست پر فیصلہ سنایا تھا۔ جس میں سابق فوجی صدر کےسیاسی جماعت کی صدارت کا عہدہ رکھنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آئین کی شق 62، 63 کے تحت پرویز مشرف کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔ پولیٹیکل پارٹیز آرڈرز اینڈ رولز (سیاسی جماعتوں سے متعلق قوانین) کے تحت نا اہل شخص پارٹی صدارت کا اہل نہیں ہے۔ بطور پارٹی صدر پرویز مشرف کےفیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔

پرویز مشرف کو نااہل قرار دینے کی درخواست رواں سال 28 فروری کو لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔

1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالنے والے پرویز مشرف اس وقت پاکستانی فوج کے سربراہ تھے۔ غداری جیسے سنگین مقدمات میں پاکستانی عدالتوں کو مطلوب سابق جنرل طویل عرصے سے خودساختہ جلاوطنی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

 


متعلقہ خبریں