سندھ حکومت بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کرنے کی پابند ہے، سپریم کورٹ


اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کرنے کی پابند ہے۔

سپریم کورٹ نے سندھ میں بلدیاتی اختیارات کی منتقلی سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ 58 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی درخواست سندھ حکومت کو احکامات دیتے ہوئے نمٹا دی۔ سپریم کورٹ نے 26 اکتوبر 2020 کو سندھ میں بلدیاتی اختیارات کی منتقلی کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ماسٹر پلان بنانا اور اس پر عمل بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات ہیں اور بلدیاتی حکومت کے تحت آنے والا کوئی نیا منصوبہ صوبائی حکومت شروع نہیں کر سکتی۔ سندھ حکومت بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کرنے کی پابند ہے۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ آئین کے تحت بلدیاتی حکومت کے مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات یقینی بنائے جائیں جبکہ سندھ حکومت مقامی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی اور اچھا ورکنگ ریلیشن رکھنے کی پابند ہے۔

سپریم کورٹ نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی شق 74 اور 75 کو کالعدم قرار دے دیا جبکہ عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ایکٹ اور کے ڈی اے قوانین کو آئین کے مطابق ڈھالنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ہم کسی سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ لینا نہیں چاہتے، مولانا فضل الرحمان

عدالت نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قوانین بھی آئین کے مطابق تبدیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور واٹر بورڈ قانون میں بھی ضروری تبدیلیاں کی جائیں۔

عدالت نے سیہون ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور لاڑکانہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قوانین میں بھی ضروری ترامیم کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ قوانین کی شقوں میں تبدیلی کی جائے جہاں صوبائی اور مقامی حکومتوں کے اختیارات میں تضاد ہے۔


متعلقہ خبریں