نیٹو سے مایوس یوکرینی صدر کی روس کو مذاکرات کی دعوت

نیٹو اجلاس کمزور اور الجھنوں سے بھرا ہوا، یوکرینی صدر

نیٹو کی مدد سے مایوس ہو کر یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے روس کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یوکرینی صدر نے کہا کہ غیرجانبدار ملک ہونے کااعلان کرنے کے معاملے پر روس سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مذاکرات کی پیشکش یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں۔

کون ہے جو ہمارا ساتھ دے ؟ یوکرینی صدر کی دہائی

اس سے قبل اپنے بیان میں یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے دہائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ کون ہے جو ہمارا ساتھ دے ؟

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرینی صدر نے کہا کہ یوکرین کو اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے اب کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ کیونکہ ہمیں کوئی دکھائی نہیں دے رہا۔ نیٹو رکن بنانے کی گارنٹی دینے والے خوف زدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس اور یورپ کے درمیان آہنی دیوار گر رہی ہے جبکہ روس نے میزائل حملے دوبارہ شروع کر دئیے ہیں اور روسی حملوں میں فوج اور شہری دونوں اہداف پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: روس کا یوکرین پر حملہ، 137 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی

یوکرین کے وزیر خارجہ دمترو کلیبا نے کہا کہ کیف کے حالات دوسری جنگ عظیم جیسے ہو گئے ہیں، روس حملے کے بعد کیف کی صورتحال دوسری عالمی جنگ میں دیکھی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 1941 میں دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی نے دارالحکومت پر حملہ کیا تھا اور نازی جرمنی نے جب کیف پر حملہ کیا تب ایسے ہی حالات تھے اور ماضی میں ان حملوں کو شکست دی اور اب وہ اسے بھی شکست دیں گے۔


متعلقہ خبریں