پی ٹی آئی کا ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ


 پی ٹی آئی نے  ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کیخلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا فیصلہ کر لیا۔

پی ٹی آئی نے  پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے اور اپنے امیدوار پرویز الہیٰ کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف اٹھانے کے بعد اگلی حکمت عملی طے کر لی۔

پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کااگلا ٹارگٹ  ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری ہیں۔ پی ٹی آئی نے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایک مشن مکمل ، اب عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی پر لے کر آئیں گے، مونس الہٰی

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری  کیخلاف عدم اعتماد پر جلد ووٹنگ کروائی جائے گی۔پرویز الہٰی کے وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد ڈپٹی اسپیکر کو اسپیکر کے تمام  اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے ارکان کی تعداد پوری ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کے جاری اجلاس میں کسی وقت بھی عدم اعتماد کی تحریک ایجنڈے پر رکھی جا سکتی ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے لئے 186 ووٹ درکار ہیں جو پی ٹی آئی اور ق لیگ کے پاس موجود ہیں۔

دوسری جانب  پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج 2 بجے  طلب کر لیا گیا ہے۔اجلاس 23جولائی کو ارکان کی سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث ملتوی کیا گیا تھا۔اجلاس پینل آف چیئرمین نوابزادہ وسیم بادوزئی نے آج تک ملتوی کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:چوہدری پرویز الہٰی نے وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھا لیا

واضح رہے کہ پی ٹی آئی  نے اپریل میں دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی۔ پی ٹی آئی اپنے ہی ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے اور مسلم لیگ ن کے اجلاس میں شرکت کرنے پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہے۔


متعلقہ خبریں