ارشد شریف کیس: جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

arshad sharif

سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی گئی ہے، جے آئی ٹی نے دوسری پیشرفت رپورٹ جمع کروانے کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے سربراہ جے آئی ٹی کی سرزنش کی گئی۔

جسٹس مظاہر نقوی نے سماعت میں سوالات کیے کہ جو کام آپ کے ذمہ لگایا تھا وہ ہوا یا نہیں؟ کینیا سے قتل کے متعلق کوئی مواد ملا ہے یا نہیں؟
سربراہ جے آئی ٹی نے عدالت میں موقف اپنایا کہ کینیا میں حکام سے ملاقاتیں کیں۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ کہانیاں نہ سنائیں، آپکو شاید بات سمجھ نہیں آرہی، سربراہ جے آئی ٹی نے جواب دیا کہ کینیا نے شواہد تک رسائی نہیں دی۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ شواہد کی بات تو ٹرائل میں سامنے آئے گی مواد کیا جمع کیا ہے؟سربراہ جے آئی ٹی نے کہا کہ ارشد شریف قتل کے حوالے سے کینیا سے کوئی ٹھوس مواد نہیں ملا، جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ ارشد شریف کاموبائل اور دیگر سامان کہاں ہے؟

سربراہ جے آئی ٹی نے کہا کہ ارشد شریف کے موبائل اور آئی پیڈ کینین محکمہ آئی ٹی کے پاس ہیں، ارشد شریف کا باقی سامان موصول ہوچکا ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی کے ارکان کہاں ہیں؟ جے آئی ٹی کی جانب سے کہا گیا کہ ارکان عدالت میں موجود ہیں۔

جسٹس مظاہر نقوی نے پوچھا کہ باقی ارکان کیوں نہیں آئے؟ کیا تفتیشی ٹیم کا کام نہیں پیش ہونا؟

عدالت کی جانب سے ارشد شریف قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پبلک کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔؎

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ارشد شریف قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کس نے پبلک کی؟ پتا کریں کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پبلک کرنے کے پیچھے کون ملوث تھا؟ ارشد شریف قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بغیر تصدیق پبلک کر دی گئی، کسی نے ارشد شریف قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جان بوجھ کر پبلک کی ہے،ارشد شریف قتل کیس کی پاکستان میں تحقیقات میں غلطیاں ہوئی ہیں۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ عدالت نے رپورٹ کا ایک ایک لفظ پڑھا ہوا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کینیا نے ارشد شریف قتل کی تحقیقات میں تعاون نہیں کیا، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر کسی ملک سے تعلقات بہت اچھے نہ ہوں تو تحقیقاتی تعاون کیسےلیاجا سکتا جاتا ہے؟

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ کینیا آزاد ملک اور ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہے، جو بھی حالات ہوں دوسرے ملک کے بارے میں احترام سے بات کیجئے، عدالت جاننا چاہتی ہے کہ اسپیشل جے آئی ٹی کو اب تک کیا ملا ہے؟ اسپیشل جے آئی ٹی آئندہ کیا لائحہ عمل اختیار کرے گی؟ ارشد شریف قتل کا قبل ازقت کسی پر الزام عائد نہیں کر سکتے، رپورٹ کے واپس آنے سے اب تک کچھ ایسا ہوا ہے کہ کینیا اب تعاون نہیں کر رہا ، سپریم کورٹ ارشد شریف قتل کی تحقیقات کی سربراہی نہیں کر رہی۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دفتر خارجہ کو کینین وزیر خارجہ نے تعاون کی یقین دہانی کرائی، یقین دہانی کے باوجود کینیا میں قتل کی جائے وقوعہ پرجے آئی ٹی کو کیوں جانے نہیں دیا گیا؟

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سماعت کے دوران کہا کہ بار بار ایک ہی کہانی سنائی جا رہی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کینیا سے سفارتی تعلقات بھی قائم رکھنے ہیں یہ پیچیدہ معاملہ ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ارشد شریف قتل کے 3 زاویے ہیں، ارشد شریف کو پاکستان سے بھاگنے پر کس نے مجبور کیا؟ کیا تحقیقات ہوئیں کہ ارشد شریف کے خلاف مقدمات کس نے درج کرائے؟ کیا پتا لگایا گیا کہ ارشد شریف کو ایسا کیا دکھایا گیا کہ وہ ملک سے باہر چلے گئے؟جب تمام کڑیاں جڑیں گی تو پتا چل جائے گا کہ ارشد شریف سے جان کون چھڑوانا چاہتا تھا۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ کینیا پولیس جس کہانی پر تحقیقات کر رہی ہے وہ قابل قبول نہیں، ارشد شریف قتل پر جے آئی ٹی بنانے کی یہی وجہ تھی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ارشد شریف پر مقدمات درج کرانے والوں سے بھی تفتیش کر رہے ہیں، بعض سرکاری افسران کے نام آئے ان سے بھی تفتیش کی، مقدمات درج کرانے کے پیچھے کون تھا ابھی کچھ نہیں کہ سکتے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کیساتھ کھیل نہ کھیلیں، پہلا مرحلہ تو یہی تھا جو مکمل نہیں ہوسکا، کیا جے آئی ٹی کینیا اور یو اے ای میں تفریح کرنے گئی تھی؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ارشد شریف کے ٹویٹس اور پروگرامز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ ارشد شریف کے ساتھ موجود خرم اور وقار کا بیان کیوں نہیں لیا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کینین حکام نے صرف ڈائریکٹر پبلک پراسیکیوٹر سے ملاقات کرائی، کینین حکام نے تعاون کی یقین دہانی کرائی لیکن جگہ کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا، کینیا پر سفارتی ذرائع سے دباو ڈال رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اقوام متحدہ سے کیوں مدد نہیں لی جا رہی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کینیا دوست ملک اور ہر عالمی فورم پر پاکستان کی حمایت کرتا ہے، ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے کہ دوطرفہ اور عالمی تعاون کھو دیں، فی الحال اقوام متحدہ کی مدد لینے کا وقت نہیں آیا، وزیر مملکت خارجہ امور کی کینیا کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی ہے۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ جے آئی ٹی کو خود دیکھنا ہوگا کہ آگے کیسے چلنا ہے، ارشد شریف کے اخراجات کون اور کیوں برداشت کر رہا تھا؟ کس کے کہنے پر اخراجات اٹھائے جا رہے تھے سامنے کیوں نہیں آیا؟ کئی ممالک کے شہریوں کا کیس ضلعی عدلیہ میں ہو تو ہمیں خط لکھتے ہیں، پاکستانی سفارتخانہ بھی نیروبی میں وکلاء اور صحافیوں سے مدد لے، ارشد شریف بین الاقوامی شہرت یافتہ صحافی تھے، کینیا نے کیا تحقیقات کی ہیں رپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں، ایک ماہ کا وقت دیتے ہیں قتل کیس میں کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں رپورٹ دیں، کینیا میں وکیل کریں اپنے قانونی حقوق کی معلومات لیں، جو کرنا ہے کریں لیکن حقائق تک پہنچیں

واضح رہے سینئر صحافی ارشد شرف کے قتل کیس میں کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوسکا، تحقیقاتی ٹیم کو دبئی اور کینیا سے مطلوبہ شواہد نہیں مل سکے ہیں۔

ارشد شریف کیس میں خصوصی جے آئی ٹی نے پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کے متحدہ عرب امارات کو بھیجے گئے 3 خطوط کے جواب کا انتظار ہے۔

 


متعلقہ خبریں