آسٹریلیا، امیگریشن نظام میں تبدیلی کا اعلان، پوائنٹس ٹیسٹ میں ترمیم کا عندیہ

آسٹریلیا، امیگریشن نظام میں تبدیلی کا اعلان، پوائنٹس ٹیسٹ میں ترمیم کا عندیہ

کینبرا: آسٹریلیا کی وزیر داخلہ کلائر اونیل نے اپنے امیگریشن نظام کی ٹوٹ پھوٹ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارے کاروبار کو ناکام بنا رہا ہے، تارکین وطن کو ناکامی سے دوچار کر رہا ہے اور سب سے بڑھ کر آسٹریلینز کو ناکامی سے دوچار کر رہا ہے، اب یہ مزید جاری نہیں رہ سکتا ہے۔

پاکستانی ڈاکٹر نے آسٹریلیا میں موبائل دوربین بنا لی

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ اور مؤقر جریدے دی اکنامک ٹائمز کے مطابق آسٹریلیا میں برسر اقتدار لیبر حکومت کی وزیر داخلہ کلائر اونیل نے نیشنل پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے موجودہ امیگریشن نظام میں ترامیم کی تجویز پیش کی اور کہا اس کا بنیادی مقصدر ملک میں ہنر مند افراد کی آمد کے سلسلے کو تیز کرنا اور انہیں مستقل رہائش کی سہولت دینے کی راہ ہموار کرنا ہے تاکہ آسٹریلوی معشیت کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکے۔

انہوں نے واضح طور پر عندیہ دیا کہ ہنر مند تارکین وطن کا انتخاب کرنے والے موجودہ نظام پوائنٹس ٹیسٹ میں ترامیم کی جائیں گی۔

پاکستانیوں سمیت 57 تارکین وطن جاں بحق

واضح رہے کہ آسٹریلیا کی حکومت نے گذشتہ سال اعلان کیا تھا کہ رواں مالی سال میں مستقل امیگریشن کی تعداد 35 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 95 ہزار تک کر دی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برسر اقتدار لیبر حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب آسٹریلیا میں ہنر مندوں اور مزدوروں کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔

کینیڈا کی نئی امیگریشن پالیسی، لاکھوں ملازمین کی ضرورت

یاد رہے کہ آسٹریلیا کو دنیا کے بہت سے ممالک کے بیروزگار نوجوان خوابوں کی سرزمین بھی سمجھتے ہیں اور تعلیم و ملازمت کے حصول کی خاطر وہاں جانے کے خواہش مند رہتے ہیں۔

وزیر داخلہ کلائر او نیل کی جانب سے یہ اعلان مقامی حکومتوں، ٹریڈ یونین، کاروبار اور صنعتوں کے 140 نمائندوں کے دو روزہ سربراہی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا گیا۔ انہوں نے کہا آئندہ سال 30 جون 2023 تک ملک میں ہنرمندوں کو لایا جائے گا تاکہ وبائی امراض سے پیدا ہونے والی مہارتوں کی کمی کو دور کیا جا سکے۔

آسٹریلیا میں بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد

کلائراونیل نے کہا آسٹریلیا میں نرسنگ کے شعبے میں گذشتہ دو سالوں کے دوران کارکنان مسلسل دو سے تین شفٹوں میں کام کر رہے ہیں، ایئرپورٹس پر اسٹاف نہ ہونے کے باعث فلائٹس منسوخ کرنا پڑتی ہیں جب کہ پھل درختوں پر خراب ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں اتارنے کے لیے افرادی قوت بھی میسر نہیں ہے۔


متعلقہ خبریں