آئی ایم ایف سے مذاکرات، وزیر خزانہ نے برطانیہ سے مدد مانگ لی

اسحاق ڈار

پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کا ساڑھے 6 ارب ڈالر کا قرض پروگرام ختم ہونے میں صرف 10 روز باقی ہے تاہم ابھی تک مذاکرات میں ڈیڈ لاک دور نہ ہوسکا۔

اسٹاف لیول معاہدے پر بھی کوئی پیش رفت بھی نہ ہوسکی، پاکستان کی معاشی ٹیم آئی ایم ایف کو بیرونی فنانسنگ کے انتظامات پر بھی قائل نہ کرسکی،آئی ایم ایف کے نئے بجٹ پر تحفظات بھی برقرار ہیں۔

موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی بحالی کے لئے برطانوی ہائی کمشنر سے مدد طلب کر لی،برطانوی ہائی کمشنر آئی ایم ایف سے پروگرام بحالی کیلئے بات چیت کریں گے۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے برطانوی ہائی کمشنر سے ورچوئل ملاقات کی اس میں وزیر خزانہ نے موجودہ معاشی صورتحال کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف سے تعطل کے شکار معاہدے بارے بھی بتایا اور مدد کی درخواست کی جس پر برطانوی ہائی کمشنر نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیلئے تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ وہ آئی ایم ایف سے پروگرام بحالی کیلئے بات کریں گے۔

آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر پاکستان ڈیفالٹ کرسکتا ہے، بلوم برگ

دوسری جانب وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ پلان بی پر بھی کام شروع کردیا،مذاکرات کامیاب نہ ہونے کے بعد وزیرخزانہ نے مختلف ممالک کے سفیروں سے بھی ملاقاتیں کیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات سے آگاہ کیا۔

وزیرخزانہ کی سفارش پر مختلف ممالک کے سفیر بھی آئی ایم ایف سے بات چیت کریں گے،دوسری جانب بین الاقوامی جریدے بلوم برگ کے انٹیلی جنس یونٹ نے اپنی رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام نہ ملا تو پاکستان کے معاشی حالات مزید بگڑسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف سے اکتوبر میں نئے پروگرام پر مذاکرات کرسکتا ہے۔ معاشی بہتری کیلئے آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی اور دوست ملکوں سے معاونت کی ضرورت ہے۔ نئیمالی سال میں پاکستان کیلئے مزید معاشی مشکلات ہوسکتی ہیں۔


متعلقہ خبریں