قومی اسمبلی میں مالی سال 24-2023 کا وفاقی بجٹ منظور کرلیا گیا

ishaq Dar

قومی اسمبلی میں 144 کھرب 80 ارب روپے کا مالی سال 2023-24 کا وفاقی بجٹ کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران فنانس بل 2024-23 میں مجموعی طور پر 9 ترامیم پیش کی گئیں۔ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں 9 ترامیم کی منظوری دی گئی۔
فنانس بل میں 8 ترامیم حکومت اور ایک ترمیم اپوزیشن کی منظور کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 9 ہزار 200 سے بڑھا کر 9 ہزار 415 ارب مقرر کردیا گیا۔ پینشن ادائیگی 761 ارب سے بڑھا کر 801 ارب جبکہ این ایف سی کے تحت 5 ہزار 276 ارب کی بجائے 5 ہزار390 ارب ملیں گے۔

بجٹ میں مالی ڈسپلن نظر نہیں آیا، نفیسہ شاہ نے اعتراضات اٹھا دیے

وفاقی بجٹ کے مطابق فنانس بل میں مزید ترمیم کے تحت 215 ارب کے نئے ٹیکس عائد کیے گئے۔ بی آئی ایس پی پروگرام کے لیے 459 ارب کے بجائے 466 ارب روپے کر دیے گئے۔

اسی طرح  پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی حد 50 روپے سے بڑھا کر 60 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے جس کے بعد آئی ایم ایف معاہدے کی ایک اور شرط پوری ہوگئی ہے۔

آئی ایم ایف کی وفاقی بجٹ پر تنقید

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بجٹ منظوری میں اپنا حصہ ڈالنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ بجٹ ملکی معیشت کی بہتری کی طرف قدم ہے، ملک کی ترقی اور بہتری کیلئے اس بجٹ میں ٹھوس تجاویز رکھی گئیں ہیں۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ جب اتحادی حکومت نے ملک سنبھالا تو ڈیفالٹ ہونے کا خدشہ تھا۔ وزیراعظم کا مشکور ہوں جنہوں نے بھرپور سپورٹ کیا، چیئرمین سینیٹ اور دیگر متعلقہ کمیٹیوں کا بھی مشکور ہوں۔


متعلقہ خبریں