وکیل قتل کیس، سپریم کورٹ کا چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم برقرار

SUPREME COURT

آئندہ عدالتی ہفتے کیلئے خصوصی بینچ اور ایک لارجر بینچ کے علاوہ 5 ریگولر بینچز تشکیل


سپریم کورٹ کے مطابق وکیل عبدالرزاق شر قتل کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو گرفتار نہ کرنے کا حکم برقرار رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آج کوئٹہ وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کوریلیف ملتا ہے تو یہ ان کا بنیادی حق ہے، اعزاز سید

سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ آپ کو ہائیکورٹ نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا کہا تھا۔ کیا آپ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے؟

وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ نہیں ہوا اور ہونا بھی نہیں ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا یہ آپ طے کریں گے کہ پیش ہونا ہے یا نہیں؟ میں چھوٹا سا سوال کر رہا ہوں، ہاں یا ناں میں جواب دیں۔

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ اس جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوں گے۔ گزشتہ سماعت پر عدالتی ماحول خراب ہو گیا تھا، سپریم کورٹ نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا۔

وکیل قتل کیس ، سپریم کورٹ کا چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

اس موقع پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے میں کئی ایسے سوالات ہیں جو ہم نے سوچ رکھے ہیں۔ جب سماعت ہوگی تو ان سوالات کا جواب آپ وکلا سے پوچھیں گے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وکیل لطیف کھوسہ کی کیس جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا پر عدالتی چھٹیوں کے بعد سماعت کیلئے مقرر کردیا۔


متعلقہ خبریں