پاکستان میں گیس کی صوبوں میں غیر منصفانہ تقسیم پر سینیٹر محسن عزیز برہم


اسلام آباد(ابوبکر، ہم  انویسٹی گیشن ٹیم )پاکستان میں گیس کی صوبوں میں غیر منصفانہ تقسیم کا معاملہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں زیر بحث آیا۔ غیرمنصفانہ تقیسم اور صوبوں میں تقسیم کار پالیسوں پر سینیٹر محسن عزیز کمیٹی کے سامنے برہم ہوگئے۔ 

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں گیس کی صوبوں میں تقسیم سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم میں زیر بحت آیا۔ سینٹر محسن عزیز نے کمیٹی کے سامنے بتایا کہ غلط پالیسوں کی وجہ سے سے کارخانے بند ہونے جارہے ہے، ٹیلر میڈ پالیسی کی وجہ سے صوبوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔

سینیٹر محسن عزیز نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا میں گیس کی نرخ انڈسٹری کے لیے قیمت گیارہ سو فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 2200 روپے کر دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں دوسرے صوبوں میں انڈسٹری کے لیے گیس کی نرخ 3600 سے کم کرکے 2700 کر دیا گیا، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ سے کارخانے ختم ہورہے ہیں، امن ، روزگار اور ترقی کی صورتحال کے پی اور بلوچستان میں خراب ہے۔

دوسری جانب صوبوں کی گیس کی پیداوار اور استعمال کے اعدادو شمار بھی حکام کی جانب کمیٹی میں پیش ہوئیں۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا خیبر پختونخوا میں گیس کی پیداوار 390 ایم ایم سی ایف ڈی اور استعمال 270 ایم ین سی ایف ڈی ہے۔

سندھ میں گیس کی پیداوار دو ہزار ایم ایم سی ایف ڈی اور استعمال 1600 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔

پنجاب میں گیس کی پیداوار سو ایم ایم سی ایف ڈی اور استعمال 1200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جبکہ بلوچستان میں گیس کی پیداوار 700 ایم ایم سی ایف ڈی اور استعمال 350 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔

 


ٹیگز :
متعلقہ خبریں