غیر ملکیوں کی جانب سے جعلی شناختی کارڈز سے اربوں روپے کی جائیدادیں خریدنے کا انکشاف


اسلام آباد(شہزاد پراچہ) پاکستان میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی جانب سے جعلی طریقے سے حاصل کیے گئے شناختی کارڈز سے اربوں روپے کی جائیدادیں خریدنے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس بات کا انکشاف سیکرٹری داخلہ کی صدارت میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی طرف سے حاصل کی گئی جائیدادوں سمیت کاروبار کی شناخت اور اس کی ضبطگی کا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ٹاسک فورس کا اجلاس میں ہوا۔

اجلاس میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی کوششوں کی تعریف کی انہوں نے غیر قانونی غیر ملکیوں کی طرف سے حاصل کیے گئے کاروبار اور جائیدادوں کی شناخت کرنے پر زور دیا۔

اس موقع پر وزارت داخلہ حکام نے قانونی پہلوں اور ایسی جائیدادوں اور کاروباروں کی شناخت اور ضبطی کے مجوزہ طریقہ کار پر مشتمل ایک تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایسی جائیدادوں اور کاروباروں کی ایک فہرست وزارت داخلہ کے ساتھ شیئر کی گئی ہے ساتھ ہی ان لوگوں کی ایک بڑی فہرست بھی ہے جن کے شناختی کارڈ نادرا نے ان کی شناخت کے حوالے سے شکوک و شبہات کے باعث بلاک کر دیے ہیں۔

اجلاس میں نادرا حکام نے نشاندہی کی ہے کہ شناختی کارڈ کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو مکمل طور پر جعلی ہیں اور ان کا نادرا سسٹم میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور دوسری وہ جو نادرا سیٹ اپ میں غیر قانونی مداخلت کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر سیکرٹری داخلہ نے نشاندہی کی کہ غیر قانونی جائیدادوں اور کاروباروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک وہ جائیدادیں جو جعلی اورغیر قانونی طور پر حاصل کردہ شناختی کارڈ کی بنیادپر حاصل کی گئی ہیں آور دوسری بے نامی جائیدادیں۔

ذرائع نے بتایا کہ نادرا تما جعلی اورغیر قانونی طور پر حاصل کردہ شناختی کارڈزکی ضلع وار فہرستیں متعلقہ ڈی ایل سیز کے ذریعے غور کے لیے شیئر کرے گا اور ڈی ایل سیز ایک ماہ کے اندر اندر فہرستوں کی چھان بین اور حتمی شکل دیں گے۔

تاکہ نادرا ان کارڈز کو غلط قرار دینے میں آگے بڑھ سکے اس سلسلے میں وزارت داخلہ متعلقہ چیف سکریٹریوں کو لکھے گا کہ مذکورہ کام کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے۔

اجلاس میں نادرا حکام نے نشاندہی کی کہ ایف بی آر کے تعاون سے جعلی اورغیر قانونی طور پر حاصل کردہ شناختی کارڈزہولڈرز کے ڈیٹا کو فائلر اور نان فائلر میں الگ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے عدالتوں کے ان فیصلوں کا حوالہ دیا جو ایسے شناختی کارڈزکو روکنے میں رکاوٹ بنتے ہیں اجلاس کے دوران بے نامی جائیدادیں اور کاروبار کے حوالے سے وزارت داخلہ حکام نےبتایا کہ ایف بی آر کی جانب سے بے نامی جائیدادوں کو بے نامی لین دین امتناع ایکٹ 2017 کے تحت نمٹایا جا رہا ہے اور اس معاملے پر ایک بے نامی کمیٹی ہے

انہوں نے ایسی جائیدادوں اور کاروباروں پر قبضہ کرنے والے غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دیاتاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ ایف بی آر کی مشاورت سے اس معاملے پر مزید غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

سیکرٹری داخلہ نے تجویز دی کہ وسل بلورز کو انعام دینے کا ایک طریقہ کار ہونا چاہیے جس کے لیے قانونی رائے لی جائے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف بی آر، فنانشل منجمنٹ یونٹ اور ایس ای سی پی کے ساتھ اجلاس کا اہتمام کیا جا ئے اوراس کے بعد ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد کیا جائے گا

جس میں ایف بی آر اور فنانسل منجمنٹ ٹاسک فورس سے درخواست کی جائے گی کہ وہ بے نامی ایکٹ 2017 کے نفاذ کے طریقہ کار کے بارے میں بریف کریں

تاکہ غیر ملکیوں کے زیر قبضہ غیر قانونی بے نامی جائیدادوں سمیت دیگر جائیدادوں کے معاملے میں آگے بڑھنے کا راستہ طے کیا جا سکے

جبکہ وزارت قانون و انصاف اور ایس ای سی پی سے درخواست کی جائے گی کہ وہ ٹاسک فورس کو معاملے کے قانونی پہلوں سے آگاہ کریں۔


متعلقہ خبریں