جو پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں اس کی بہتر وضاحت وہی دے سکتے ہیں، خرم دستگیر

خرم دستگیر

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ جو پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں اس کی بہتر وضاحت وہی دے سکتے ہیں۔

ہم نیوز کے پروگرام ”پاکستا ن ٹونائٹ ود سید ثمر عباس” میں گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے ٹکٹ کیلئے انٹرویوز ہو رہے ہیں اور کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے فوراً بعد ن لیگ کی مہم شروع ہوگی ۔

تحریک انصاف کیلئے ورچوئل جلسہ کرنے والوں کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں، علی محمد خان

انہوں نے کہا ہے کہ ہر جماعت الیکشن سے پہلے اپنے اعتماد کااظہار کرتی ہے لیکن معاملہ عوام کے ہاتھ میں ہے، اس وقت ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اور سیاسی استحکام کیلئے ہمیں نواز شریف کے ہاتھ مضبوط کرنے ہیں۔

میری ذاتی رائے ہے بہت ساری نشستوں پر ن لیگ کوغیر متوقع کامیابی ملے گی،اپریل 2018تک مسلم لیگ ن الیکشن جیت رہی تھی، اس کے بعد کیا ہوا یہ سب جانتے ہیں۔

امیر بخش عرف میر مہر کا جے یو آئی میں شمولیت کا اعلان

خرم دستگیر نے کہا ہے کہ جو پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں اس کی بہتر وضاحت وہی دے سکتے ہیں، شاہد خاقان عباسی اورسردارمہتاب عباسی میرے قابل احترام ہیں، سردار مہتاب عباسی سے 2018کے الیکشن میں بھی ن لیگ کی حمایت نہیں کی تھی۔

پرامید ہوں شاہد خاقان عباسی کی حد تک ن لیگ کو کسی مخالفت کا سامنا نہیں ہوگا، شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن سینئر ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں، شاہد خاقان سے استدعا ہے کہ موجودہ بحرانوں کا ان کے پاس حل ہے تو سامنے لائیں،جن بحرانوں کی طرف وہ نشاندہی کرتے ہیں ان سے لڑنےکا طریقہ یہی ہے کہ انتخابات لڑا جائے۔ ہماری خواہش ہے کہ شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن کی طرف سے الیکشن لڑیں۔

حکومت پاکستان کا امیر کویت کی وفات پر ایک روزہ ”قومی یوم سوگ” منانے کا اعلان

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ سیاست میں کبھی بھی آپ کو آئیڈل حالات نہیں ملتے، آئی پی پی کے ساتھ ابھی صرف ابتدائی گفتگو ہوئی ہے، مسلم لیگ ق کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ ہوگی، تاہم آئی پی پی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

پیپلز پارٹی کےساتھ پنجاب میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا مارجن ہے، زرداری کی گفتگو میں مفاہمت ہے، 2018اور22میں ہم نفرت کے دور سے گزرے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی پیپلز پارٹی میں شامل

پروگرام میں صدر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ صدر کا فیصلہ 8فروری کو عوام کے فیصلے کے بعد ہوگا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ایک جماعت کا خیال تھا کہ ان کے علاوہ باقی سب غدار اور چور ہیں، اب ہم ایک مفاہمت اور باہمی احترام کے دور میں آرہے ہیں۔

 

 


متعلقہ خبریں