ملک بھر سے الیکشن عمل سے متعلق7848 شکایات موصول

انتخابات

اسلام آباد(زاہد گشکوری، ہیڈہم انویسٹی گیشن ٹیم)ملک بھر سے الیکشن عمل سے متعلقہ 7848 شکایات موصول ہوئی۔ 

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں ماہ پولیس،ضلعی انتظامیہ اور ریٹرنگ افسران نے الیکشن عمل سے متعلق 7848 شکایات موصول کی ہیں، یہ متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے شکایات 146 شہروں میں درج ہوئی تھی۔

95 فیصد یعنی 7454 شکایات کا ازالہ کردیا گیا ہے جبکہ پانچ فیصد یعنی 394 شکایات پر کاروائی جاری ہے۔

ہم انویسٹگیشن ٹیم نے یہ سرکاری اعدادوشمار چاروں صوبائی الیکشن ہیڈکوارٹرز، چیف سیکرٹریوں،آئی جی پولیس اور 16 اضلاع کے الیکشن حکام سے حاصل کیے ہیں۔

3658 شکایات الیکشن لڑنے والے امیدواران اور انکے سپورٹرز نے پولیس،ریٹرنگ افسران اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ درج کرائیں تھی، بقیہ 4190 شکایات عام شہریوں اور عام ووٹرز نے کرائیں تھی، شکایات درج کرانے والوں میں 1815 تحریک انصاف کے سپورٹرز اور امیدواران تھے،

جبکہ 432 تحریک لبیک کے سپورٹرز نے شکایات جمع کرائی ہیں، اسطرح ایم کیو ایم کے ووٹرز اور سپورٹرز نے 325 شکایات کرائی ہیں، 254 پی پی پی کی حمایت یافتہ امیدواروں اور ووٹرز نے جبکہ 187 سپورٹرز کا تعلق ن لیگ سے تھا جنہوں نے شکایات درج کرائی تھیں۔

اسطرح 132 سپورٹرز اور امیدواران کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی اور 56 سپورٹرز اور امیدواران کا تعلق پختوخواہ ملی عوامی پارٹی سے تھا جنہوں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شکایات جمع کرائی تھی۔

1452 شکایات ریٹرنگ افسران کے ساتھ درج کرائی گئی تھی جہاں مقامی ضلعی انتظامیہ اور ریٹرنگ افسران نے 1114 شکایات کا ازالہ کردیا۔

حاصل اعدادوشمار سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 18 اضلاع میں ریٹرنگ افسران کے پاس 388 شکایات زیر سماعت ہیں۔

زیادہ تر شکایات لاہور، کراچی، راولپنڈی، ملتان، پشاور، فیصل آباد، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور سوات میں دیکھی گئیں، لاہور میں سب سے زیادہ 2145 شکایات موصول ہوئی تھی۔

کراچی میں 1567 اور فیصل اباد میں 789 شکایات درج کرائی گئی تھی، پشاور میں 684، راولپنڈی نے 541 اور سیالکوٹ میں 231 شکایات ملیں تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے امیدواران اور سپورٹر نے لاہور سے 445 ، پشاور 356، فیصل آبار سے 189 شکایات جمع کرائیں تھی۔


متعلقہ خبریں