انٹربینک میں ڈالر مزید75 پیسے سستا

ڈالر

کاروباری ہفتے کے آخری روز ڈالر کی قیمت میں بڑی کمی


انٹربینک میں امریکی ڈالر مزید 75 پیسے سستا ہوگیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کے استعفے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل میں بڑی تبدیلی

سٹیٹ بینک کے مطابق کاروباری ہفتے کے آخری روزانٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قیمت 280روپے 36پیسےپر بند ہوئی۔

دوسری جانب امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ گزشتہ 7 سالوں سے دباؤ کا شکار ہے۔

گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں بارشوں کی پیشگوئی

گزشتہ چند مہینوں میں کچھ بحالی کے باوجود رواں سال پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 20 فیصد گر گیا ہے۔

ویب سائٹ ’’پرو پاکستانی‘‘ کے مطابق ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے ایک رپورٹ میں کہا کہ 2023 میں یہ 20 فیصد کمی گزشتہ 5 سال کی اوسط 13 فیصد سالانہ اور 10 سالہ اوسط 8 فیصد سے زیادہ ہے۔

خیبر پختونخوا ،میٹرک کے مارچ میں ہونے والے امتحانات ملتوی

پاکستان کی بیرونی ادائیگی کے خطرے اور دیگر عوامل پر غور کرتے ہوئے بروکریج ہاؤس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت جون 2024 تک 310 روپے اور دسمبر 2024 تک 325روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن مستعفی

بیرونی مالیاتی فرق، چیلنجنگ عالمی مالیاتی منڈیوں اور مقامی سیاسی عدم استحکام نے زرمبادلہ کے ذخائر کو بری طرح متاثر کیا ہے اور پاکستانی روپیہ پر دباؤ بڑھایا ہے۔

علاوہ ازیں ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے 2024 میں ڈالر کی قیمت 250 روپے سے بھی کم ہونے کا امکان ظاہر کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب سے امیدواروں کا اعلان کر دیا

ملک بوستان نے کہا کہ اگر اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو سال 2024 میں ڈالر کی قیمت 250 روپے سے بھی کم ہو سکتی ہے، لیکن اگر انتخابات نہ ہوئے یا کسی بڑی جماعت نے نتائج تسلیم نہ کیے تو ڈالر بے قابو ہوسکتا ہے اور پھر اس کی قیمت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکے گا۔

پیپلز پارٹی کے انور زمان خان، قمر زمان خان پی ٹی آئی پی میں شامل

انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، معیشت کا دروازہ سیاست کے دروازے سے گزر کر آتا ہے۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں