پی ٹی آئی انتخابی نشان کی حقدار، پشاور ہائیکورٹ نے مختصر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

پشاور ہائیکورٹ پاکستانی خواتین

پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس کامختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

جسٹس ارشد علی نے فیصلہ تحریر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی انتخابی نشان کی حقدار ہے اور پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ ویب سائٹ پر جاری کیا جائے۔

فیصلے میں لکھا گیا کہ عدالت نے خود کو 2 سوالات تک محدود رکھا،پہلا سوال یہ کہ کیا پشاور ہائیکورٹ میں کیس قابل سماعت ہے؟دوسرا سوال کیا الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی پر فیصلہ کا اختیار ہے؟

الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہوگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سیاسی جماعت بنانا پاکستان کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور سیاسی جماعتوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں ہائیکورٹ کیساتھ پشاور ہائیکورٹ کو سننے کا اختیار ہے جبکہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 209 کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں۔

پشاور ہائیکورٹ کے مطابق انتخابی نشان کے تحت الیکشن لڑنے کا حق بھی حاصل ہے، انتخابی نشان کے آئینی حق سے انکار نہیں کیا جاسکتا، الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ تفصیلی فیصلہ مزید وجوہات اور وضاحت کے ساتھ بعد میں جاری کیا جائے گا۔


متعلقہ خبریں