ایران کیخلاف ”پاکستان کا جوابی وار” ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

پاکستان کا جوابی وار

ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے افواج پاکستان کو خوب سراہا، آپریشن ‘مرگ برسرماچار’ کے بعد ” ہیش ٹیگ ”پاکستان کا جوابی وار” اور اس سے منسلک ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔ 

پاک فوج کی جانب سے آپریشن کے بعد ہیش ٹیگ”پاکستان کا جوابی وار”اس وقت سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ زیر بحث موضوع بنا ہوا ہے، سوشل میڈیا صارفین نے سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان 1980 سے 1988 کی ایران عراق جنگ کے بعد ایران پر حملہ کرنے والی پہلی ریاست بن گئی ہے۔  ریاست نے عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے۔

ایران میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا، پاک فوج

ایک صارف نے کہا ایران نے معصوم بچے شہید کیے، جبکہ پاکستان نے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، ایک میزائل کے جواب میں پاکستان نے چار میزائل پھینکے، کئی لوگوں نے حملے کو ہمسایہ ملک کی سالمیت کے لئے ضروری قرار دیا۔

میزائل حملے دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے ضروری اور یہ پاکستان اور ایران دونوں کے مفاد میں تھے، دیگرصارفین نے لکھا انہیں افواج پاکستان کی قابلیت اور پروفیشنل ہونے پر فخر ہے۔

پاک ایران کشیدگی، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب

خیال رہے کہ گزشتہ رات پاکستان نے ایران کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس حوالے سے ترجمان پاک فوج نے بیان جاری کیا تھا کہ پاکستان نے ایران کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے، یہ دہشتگرد پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان نے جمعرات کی صبح (18جنوری 2024)کو ایران کے اندر ان ٹھکانوں کے خلاف موثر حملے کیے جو پاکستان میں حالیہ حملوں کے ذمہ دار دہشت گردوں کے زیر استعمال تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق درست حملے کلنگ ڈرونز، راکٹوں، بارودی سرنگوں اور اسٹینڈ آف ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کیے گئے۔

بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال ٹھکانوں کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک آپریشن میں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جس کا کوڈ نام آپریشن ‘مرگ برسرماچار’ رکھا گیا۔

پاک ایران کشیدگی، چین کی جانب سے ثالثی کی پیشکش

نشانہ بنائے گئے ٹھکانے بدنام زمانہ دہشت گرد استعمال کر رہے تھے جن میں دوست عرف چیئرمین، بجر عرف سوغت، ساحل عرف شفق، اصغر عرف بشام اور وزیر عرف وزی شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کی کارروائیوں کے خلاف پاکستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔

پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اور کسی بھی مہم جوئی کے خلاف تحفظ کو یقینی بنانے کا ہمارا عزم غیر متزلزل ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق ہم پاکستانی عوام کی حمایت سے پاکستان کے تمام دشمنوں کو شکست دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں