وفاقی حکومت کا سب سے بڑا ذریعہ آمدن کونسا ٹیکس؟ تفصیلات سامنے آگئیں

پٹرول

نگران حکومت نے جاتے جاتے پٹرول کی قیمت میں ہوشربا اضافہ کردیا


اسلام آباد(شہزار پراچہ) پپٹرولیم مصنوعات پر لیوی وفاقی حکومت کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔  پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی، تیل کمپنیوں اور پٹرول پمپس کے منافع پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے یکم جنوری 2024کو اعلان کی گئی قیمتوں کے مطابق پٹرول کی قیمت 267 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 276 روپے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے جس میں پٹرول میں 83 جبکہ ڈیزل میں 80 روپے حکومت اور تیل کمپنیاں منافع حاصل کررہی ہیں۔

پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں 9 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان

یکم جنوری کواعلان کی گئی صارف قیمت کے مطابق ڈیزل کی ایکس ڈپو یعنی ملک میں ریفائنری میں قیمت 196 روپے بنتی ہے، جس کے بعد پٹرولیم ڈویلپمںٹ لیوی کی مد میں 60 روپے فی لیٹر، آئل کمپنیوں کا منافع 8روپے 22پیسے، پٹرول پمپ کا منافع 8روپے 64پیسے اور ٹرانسپورٹیشن کرایہ 3 روپے 29پیسے فی لیٹروصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نگران حکومت نے ایف بی آر کو کھاد کمپنیوں کے ٹیکس آڈٹ کا حکم دے دیا

یکم جنوری کو اعلان کی گئی صارف قیمت کے مطابق پٹرول کی ایکس ڈپو قیمت 186 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جس کے بعد ٹرانسپورٹریشن کرایہ پانچ روپے بائیس پیسے، تیل کمپنیوں کا منافع سات روپے ستاسی پیسے جبکہ پٹرول پمپ مالکان کا منافع آٹھ روپے چونسٹھ پیسے فی لیٹر کے حساب سے تعین کیا گیا ہے۔

پاکستان اور جاپان کے درمیان اشتراک کو فروغ دینے کے لیے جاپانی برتنوں کی نمائش کا افتتاح

واضح رے کہ آئی ایم ایف کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے عوام کی جیبوں سے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں رواں مالی سال کے دوران 918ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کررکھاہے جس میں سے پہلی سہ ماہی میں اس مد میں 222 ارب روپے کی وصولیاں بھی کرلی ہیں۔۔


متعلقہ خبریں