فکسڈ میچ چل رہا ہے میں یہاں کیا کروں گا؟ عمران خان حاضری لگا کر واپس روانہ

عمران خان

اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سائفر کیس کی سماعت کے دوران حاضری لگا کر واپس چلے گئے اور مؤقف اختیار کیا کہ فکسڈ میچ چل رہا ہے میں یہاں کیا کروں گا۔

سابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی۔ کیس میں مزید 11 گواہان کے بیانات پر جرح مکمل کرلی گئی جبکہ سائفر کیس میں مجموعی طور پر 25 گواہان پر جرح کا عمل مکمل ہوا۔

گواہان پر جرح کے بعد ملزمان کے 342 کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے سوالنامے تیار کر لیے گئے۔ سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، سیکرٹری داخلہ آفتاب اکبر درانی، سابق پاکستانی سفیر اسد مجید کے بیان پر جرح مکمل کر لی گئی۔ گواہان کے بیانات پر جرح اسٹیٹ ڈیفنس کونسل نے کی۔

سماعت کے دوران شاہ محمود قریشی نے اسٹیٹ ڈیفنس کونسل کے ذریعے گواہان کے بیانات پر جرح کرانے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ میرے وکیل یہاں موجود ہیں، ان کے ذریعے جرح کرائی جائے۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل سکندر ذوالقرنین نے کہا کہ یہ کون ہیں؟ یہ کیوں جرح کریں گے؟ میں یہاں موجود ہوں۔ میں نے آپ پر عدم اعتماد نہیں کیا۔

شاہ محمود قریشی نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا میں سوال نہیں کرسکتا؟ جس پر جج نے کہا کہ آپ کو اور آپ کے وکلا کو موقع دیا گیا لیکن آپ نے انکار کیا۔ میں نے حکومت کے اخراجات پر اسٹیٹ ڈیفنس کونسل مقرر کیے اور میں نے آپ کا جرح کا حق ختم کر دیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اللہ کے خوف سے ڈریں اور اتنی نا انصافی نہ کریں۔

جج نے ریمارکس دیئے کہ عثمان ریاض گل نے مجھ پر جو جملہ کسا وہ میں نے سن لیا تھا اور میں نے آپ سب کو اتنی عزت دی لیکن آپ نے عدالت کا احترام نہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے استفسار کیا کہ ہمارے ساتھ نا انصافی کیوں ہو رہی ہے؟ میں نے جرح میں حصہ لینا ہے۔ جس طریقے سے ٹرائل آگے بڑھایا جا رہا ہے، ہم سے ہمارا بنیادی حق دفاع چھینا جا رہا ہے۔

عدالت نے شاہ محمود قریشی کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اس طرح کریں گے تو میں آپ کو باہر نکال دوں گا۔ آپ کے وکلا کو اجازت دی ہے وہ بیٹھیں گے اور کارروائی سنیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ ہمیں ذبح کر رہے ہیں اور ہم کہاں سے انصاف مانگیں، ہمارا حق مارا جا رہا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ ملزم ہیں اور اونچی آواز میں بات مت کریں۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل سکندر ذوالقرنین کی جانب سے اسٹیٹ کونسل کی تعیناتی کے خلاف گواہوں پر دوبارہ جرح کرنے کی درخواستیں دائر کی گئیں جس پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے دائر درخواستیں مسترد کر دیں۔

سلمان صفدر نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہیں صبح والی بحث سے برا تو نہیں منا گئے۔ میری درخواست ہے کہ اسٹیٹ کونسل کی تعیناتی کو چیلنج کرنے کا وقت دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ریاست کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہئے ، آرمی چیف

سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کو 3 مرتبہ عدالت بلایا گیا لیکن وہ نہ آئے۔

سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ ہماری گزارش ہے جن 10 گواہان پر اسٹیٹ کونسل نے جرح کی ان کو دوبارہ بلا لیں۔

راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ عدالت پر عدم اعتماد کر دیا گیا تو جرح کو دوبارہ دہرانے کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں اور عدالت نے صبح تمام وکلا سے بار بار پوچھا لیکن سب نے انکار کیا اور ہفتے کی صبح بھی جرح کا کہا گیا، بعد میں انکار کر دیا گیا۔

سلمان صفدر نے کہا کہ میں نے آپ کو صبح عدالت میں بہت بہتر پایا، آپ اسی عدالت میں واپس چلیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر آپ فیئر ٹرائل کے لیے فراخدلی کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو انصاف کیسے ہو گا اور اگر میرا مؤقف نہیں سنا جائے گا تو مجبور ہوں کہ کہوں I have been butchered۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ لکھی جا رہی ہے انسانی تقاضوں کو پامال نہ کریں اور جب بندا جکڑا ہو تو ڈپریشن میں اونچی آواز میں بات کر جاتا ہے۔ آپ نے اللہ کو بھی جواب دینا ہے۔

سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عدالت حاضر ہو گئے اور جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے سامنے حاضر ہو گیا ہوں، میری حاضری لگا لیں۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ فیکسڈ میچ چل رہا یے تو میں یہاں کیا کروں گا؟ جس کے بعد بانی پی ٹی آئی عدالت سے واپس روانہ ہو گئے۔


متعلقہ خبریں