توشہ خانہ ، 190 ملین پاؤنڈ کیس ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن درست قرار دیدیا

اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ کی انگریزی اخبار کی شائع کردہ خبر کی تردید، اعلامیہ جاری


اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیسز میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن درست قرار دے دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے احتساب عدالت کے جج کی تقرری پر درخواست گزار کے اعتراضات مسترد کر دیئے۔

عدالت نے دو نیب ریفرنسز میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر جیل ٹرائل درخواست گزار کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر ہے، بظاہر جیل ٹرائل بدنیتی پر مبنی نہیں۔

توشہ خانہ ،عمران خان اور بشریٰ کو 14، 14 سال سزا، 10 سال کیلئے نااہل، 1 ارب 57 کروڑ جرمانہ

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیب قانون کے مطابق سیشن عدالت کے مقام کا تعین کرنا ایگزیکٹو کا اختیار ہے، ایگزیکٹو آرڈر موجود نہ ہو تو متعلقہ عدالت کسی دوسرے مقام پر سماعت کے لیے آرڈر جاری کر سکتی ہے، ایگزیکٹو آرڈر کی موجودگی میں متعلقہ عدالت نے دیے گئے مقام پر سماعت کرنا ہوتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ سائفر کیس میں 2 رکنی بینچ کے سامنے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت زیرِ سماعت معاملے میں اپیل تھی، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں عدالت کے مقام کے تعین کے حوالے واضح قانون موجود نہ ہونے کے باعث آفیشل سیکرٹ ایکٹ مقدمہ میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 352 کا اطلاق ہوتا ہے۔

عمران خان کی نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواستیں مسترد

عدالت نے کہا ہے کہ ہائیکورٹ رولز اور ضابطہ فوجداری سیکشن 352 کا اطلاق تب ہوگا، جب سیشن عدالت مقام سے متعلق آرڈر پاس کرے، یہ اعتراض درست ہے کہ ریفرنس دائر کرنے سے پہلے ہی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

عدالت نے مزید کہا کہ ایگزیکٹو آرڈر یا ٹرائل کورٹ کے کسی حکم کی بنیاد پر کارروائی کالعدم قرار نہیں دی جا سکتی، ضابطہ فوجداری سیکشن 537 میں واضح ہے کہ کونسی کارروائی کالعدم ہوسکتی ہے اور کونسی نہیں۔


متعلقہ خبریں