این اے 127:ٹکر کا مقابلہ ، کون کس پر بھاری؟


اسلام آباد(زاہد گشکوری، ہیڈ ہم انویسٹی گیشن ٹیم )پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے انتخابات 2024 میں عوامی ووٹ کے حصول اور دوبارہ منتخب ہونے کیلئے انتخابی مہم پورے جوبن پر ہے۔

تاہم بعض پیچیدگیوں کے باعث تین سابق وزرائے اعظم سمیت کئی بڑی سیاسی شخصیات کا پارلیمانی مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ سب اس سیاسی دنگل کا حصہ نہیں۔

سابق وزرائے اعظم چوہدری شجاعت حسین، عمران خان اور شاہد خاقان عباسی متعدد وجوہات کی بنا پر مقابلے سے باہر ہو گئے ہیں، بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اب بھی سنگین عدالتی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جو عملی سیاسی میدان میں اُن کی موجودگی کے لیے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔

حلقے کا جائزہ:

اگر ہم حلقے کا جائزہ لیں توچیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری این اے 127 لاہور سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا اللہ تارڑ اور تحریک انصاف کے ظہیر عباس کھوکھر کے مدمقابل الیکشن لڑ رہے ہیں۔

تجزیہ :

2018 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے این اے 200، ضلع لاڑکانہ سے الیکشن لڑا،انہوں نے 84,538 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل متحدہ مجلس عمل کے راشد محمود سومرو نے 50,910 ووٹ حاصل کیے تھے۔ بلاول 33628 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے۔

انتباہ: یہ تجزیہ ہم انوسٹی گیشن ٹیم کی معلومات اور تحقیق پر مبنی ہے،اس تجزیے کوکسی بھی زاویے سے حتمی تصور نہ کیا جائے۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں