این اے 263:ٹکر کا مقابلہ ، کون کس پر بھاری؟

این اے 263

این اے 263:ٹکر کا مقابلہ ، کون کس پر بھاری؟


اسلام آباد(زاہد گشکوری، ہیڈ ہم انویسٹی گیشن ٹیم )پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے انتخابات 2024 میں عوامی ووٹ کے حصول اور دوبارہ منتخب ہونے کیلئے انتخابی مہم پورے جوبن پر ہے۔

تاہم بعض پیچیدگیوں کے باعث تین سابق وزرائے اعظم سمیت کئی بڑی سیاسی شخصیات کا پارلیمانی مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ سب اس سیاسی دنگل کا حصہ نہیں۔

سابق وزرائے اعظم چوہدری شجاعت حسین، عمران خان اور شاہد خاقان عباسی متعدد وجوہات کی بنا پر مقابلے سے باہر ہو گئے ہیں، بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اب بھی سنگین عدالتی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جو عملی سیاسی میدان میں اُن کی موجودگی کے لیے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔

حلقے کا جائزہ:

اگر حلقے کا جائزہ لیا جائے تو چیئرمین پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے۔میپ) محمود خان اچکزئی کا مقابلہ این اے 263 کوئٹہ سے مسلم لیگ ن کے جمال شاہ کاکڑ، پی پی پی کے روزی خان کاکڑ، تحریک انصاف کے سالار خان کاکڑ اور جے یو آئی ف کے مفتی روزی خان سے ہے۔

سرفہرست تین امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ این اے 266 سے محمود خان اچکزئی کا مقابلہ تحریک انصاف کے نذر محمد کاکڑ، اے این پی کے حاجی عبدالمنان خان درانی اور پیپلزپارٹی کے مولانا صلاح الدین ایوبی سے ہے۔ یہ مقابلہ بھی انتہائی سنسنی خیز ہے۔

تجزیہ :

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی 2018 کے انتخابات میں اپنے حلقہ این اے 263 قلعہ عبداللہ، بلوچستان سے ہار گئے۔ انہوں نے 19,989 ووٹ حاصل کیے جب کہ اے این پی کے اصغر خان اچکزئی نے 21,417 ووٹ حاصل کیے اور انہیں 1,428 ووٹوں سے شکست دی۔

دوسری جانب محمود خان نے جمعہ کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265 سے باضابطہ طور پر اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔ امیدواروں کی دستبرداری کے آخری دن کیا جانے والا یہ اقدام مولانا فضل الرحمان کے حق میں ایک اسٹریٹجک فیصلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

انتباہ: یہ تجزیہ ہم انوسٹی گیشن ٹیم کی معلومات اور تحقیق پر مبنی ہے،اس تجزیے کوکسی بھی زاویے سے حتمی تصور نہ کیا جائے۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں