بلوچستان ، انتخابی امیدواروں کے گھروں ، دفاتر ، اسکول اور پولیس اسٹیشن پر دستی بم کے حملے ، 7 افراد زخمی

7 زخمی

بلوچستان میں انتخابی امیدواروں کے گھروں ، دفاتر ، اسکول اور پولیس اسٹیشنز پر دستی بم کے حملوں کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہو گئے

 حملے کوئٹہ، پنجگور، نوشکی، جیوانی، ڈیرہ بگٹی، تربت، قلات اور خاران میں کئے گئے ، کیچ کے علاقے مند میں پی بی 27 کیچ 3 کے آزاد امیدوار میر فدا حکیم رند کے قافلے پر فائرنگ بھی کی گئی ،پولیس کے مطابق حملوں میں 7 افراد زخمی ہو گئے ۔

 کوئٹہ کے علا قے مشرقی بائی پاس ملاخیل آباد میں دستی بم حملے کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوئے ،کوئٹہ ہی میں  مشرقی بائی پاس پر دستی بم پھینکنے سے ایک اور دھماکا ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بھتہ کیوں نہیں دے رہے؟ تاجر کے گھر پر دستی بم حملہ

جگور میں نامعلوم افراد نے نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر رحمت صالح بلوچ کے گھر پر دستی بم پھینکا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا تھا، نوشکی میں نامعلوم افراد نے سٹی پولیس تھانے کے مین گیٹ پر دستی بم پھینکا۔

گوادر کے علاقے جیونی میں سرکاری اسکول پر کریکر بم حملے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم اسکول کی چھت گر گئی۔

ڈیرہ بگٹی کے علاقے پٹ فیڈر میں بارودی سرنگ کا دھماکا ہوا ،خاران میں قومی اسمبلی کے لیے آزاد امیدوار اعجاز سنجرانی کے دفتر کے قریب سے 2 بم برآمد کر کے ناکارہ بنا دیے گئے۔

پشاور میں دہشتگردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، اہلکار زخمی

پولیس حکام کے مطابق خاران کے کلان ایریا جنگل روڈ پر نامعلوم افراد نے مسلم لیگ ن کے امیدوار شعیب نوشیرانی کے گھر پر دستی بم پھینکا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تربت میں نامعلوم افراد نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالرؤف رند کے گھر پر بھی دستی بم پھینکا جو گھر کے قریب گر کر پھٹ گیا۔ قلات کے علاقے مغلزئی میں بھی نامعلوم افراد نے پیپلز پارٹی کے انتخابی دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہو گئے۔

 


متعلقہ خبریں