عام انتخابات 2024: بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں کی جیت ممکن؟ تاریخ پر ایک نظر

عام انتخابات 2024: بڑی تعداد میں آزاد امیدواروں کی جیت ممکن؟ تاریخ پر ایک نظر

پاکستان میں عام انتخابات 2024 جہاں ہفتوں کے بجائے اب کچھ دنوں کی مسافت پر ہیں، وہیں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) جیسی بڑی جماعتوں سمیت متعدد سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی بھرپور انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں۔

سپریم کورٹ کا پاکستان تحریک انصاف سے انتخابی نشان ‘بلا’ واپس لینے کے بعد بطور جماعت اگرچہ انتخابی عمل میں حصہ لینا ممکن نہیں مگر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ملک بھر میں انتخابی عمل میں شریک ہیں۔

الیکشن 2024 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 200 سے زائد آزاد امیدوار قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں پر اپنا حصہ کھونے کے بعد پی ٹی آئی اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں بھی شامل نہیں ہوپائے گی۔

اسی کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے نہ ہونے کی بنا پر سینیٹرز کا انتخاب بھی پی ٹی آئی کے لیے آسان نہ ہوگا۔ صدر تو یقیناً پی ٹی آئی سے ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

ایسے میں حالیہ دنوں پی ٹی آئی کا پلان سی سامنے آچکا ہے جس کے تحت پارٹی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے الیکشن میں جیتنے کے بعد پی ٹی آئی میں شامل ہونا ہے۔ اس مقصد کے لیے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات لازمی ہیں۔

گزشتہ انتخابات اور آزاد امیدواروں کی تعداد

پاکستان میں 1988 کے انتخابات کی بات کی جائے تو ایک طرف جہاں پورا ملک نہایت کشیدہ اور افراتفری کی صورتحال کا شکار تھا وہیں کئی جماعتوں کے ارکان سے زائد 40 قومی اسمبلی کی نشستیں آزاد امیدوار جیت گئے تھے۔

2008 کے عام انتخابات کی بات کریں تو قومی اسمبلی کی نشستوں پر صرف 29 آزاد ارکان الیکشن لڑے تھے۔ 2013 میں یہ تعداد 27 جبکہ 2018 کے انتخابات میں منتخب ارکان کی تعداد 12 تھی۔

2018 کے الیکشنز میں پی ٹی آئی 118 جنرل نشستیں جیتی تھی جبکہ 2013 میں حکومت بنانے والی جماعت مسلم لیگ ن نے 135 نشستوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی 2008 کے عام انتخابات میں 91 جنرل نشستوں کے ساتھ وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔


متعلقہ خبریں