آزاد امیدوار اپنا وزن پی ٹی آئی کے پلڑے میں ڈالیں گے؟

فائل فوٹو


اسلام آباد: 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں کامیاب آزاد امیدوار اپنا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈالیں گے یا دیگر جماعتوں کا ساتھ دیں گے؟ اس بات کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج سے ہو جائے گا۔

پاکستان کے گیارہویں عام انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کے پاس اپنی سیاسی وابستگی کا تعین کرنے کا آج (جمعرات) آخری روز ہے۔ امیدواروں سے کہا گیا تھا کہ وہ جمعرات کی سہ پہر چار بجے تک اپنا بیان حلفی جمع کرائیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے ذرائع کے مطابق اب تک 28 آزاد امیدواروں نے پاکستان تحریک انصاف اور ایک نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا بیان حلفی جمع کرایا ہے۔

ای سی پی کی جانب سے کامیاب امیدواروں کا نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد آزاد امیدواروں کو کسی پارٹی میں شمولیت کے لیے تین دن کا وقت دیا گیا تھا جو آج ختم ہو رہا ہے۔

آزاد امیدواروں کو کسی پارٹی میں شمولیت کے لیے الیکشن کمیشن میں تصدیق شدہ بیان حلفی جمع کرانے ہوں گے۔ بیان حلفی میں لکھنا ہوگا کہ وہ اپنی مرضی سے بغیر کسی  دباؤ اور لالچ کے پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

علاوہ ازیں آزاد ارکان اسمبلی کو شامل کرنے والی جماعت کا سربراہ  بھی الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ کرنے کا پابند ہے۔

نو منتخب آزاد ارکان اسمبلی کی شمولیت کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں گی۔

وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کی کوششوں میں مصروف جماعتوں کے لیے آزاد امیدوار اہمیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کم از کم پنجاب کی حد تک یہ بات طے ہو چکی کہ آزاد امیدوار اپنا وزن جس کے پلڑے میں ڈالتے ہیں وہی جماعت حکومت بنانے میں کامیاب ہو گی۔


متعلقہ خبریں