پاکستانی سائنسدانوں نے تربوز کے چھلکوں سے آرسینک واٹر فلٹر بنا لیا


فیصل آباد: ایک تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 50 لاکھ سے زائد افراد زیر زمین پانی پینے پر مجبور ہیں، اس پانی میں موجود کیمیائی مادہ سنکھیا(آرسینک)  کی مختلف مقدار پائی جاتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنکھیا انسانی جان کے لیے بے حد خطرناک ہے جس سے دنیا بھر میں تقریبا 14 کروڑ انسان شدید متاثر یا بیمار ہورہے ہیں، جن میں خود پاکستان بھی شامل ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)  کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آرسینک ملا پانی ہر سال 43 ہزار سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں اموات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آرسینک ملے پانی کو صاف کرنے والے بہت سے کمرشل فلٹر انتہائی مہنگے ہیں اور ترقی پزیر ممالک کے عوام کی دسترس سے باہر ہیں۔

ان چیلینجز کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستانی سائنسدانوں نے تربوز کے چھلکوں سے انتہائی کم قیمت آرسینک واٹر فلٹر تیار کرلیا ہے۔

فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے یہ آلہ تربوز کے چھلکوں کی مدد سے کیا ہے جو اس وقت دنیا کا سب سے کم قیمت واٹر فلٹر بھی ہے۔

یونیورسٹی کے شعبہ مٹی و ماحولیات سے وابستہ ڈاکٹر نبیل نیازی اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ 6 سے 8 ماہ تک فلٹر کا خرچ صرف تین سے چار ہزار روپے ہے۔

ڈاکٹر نبیل نے بتایا کہ تربوز کے چھلکے سے بنا فلٹر ایک دن میں 20 لیٹر پانی کو سنکھیا سے پاک کردیتا ہے۔

زرعی یونیورسٹی کے ماہرین کے اس واٹر فلٹر کی تفصیلات ‘سائنس آف دی ٹوٹل انوائرمنٹ’ میں شائع ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر نبیل نے بتایا کہ یہ ایجاد 2014ء میں کینیڈا کی جانب سے ’گرانڈ چیلنجز‘ پروگرام میں ان کے پروجیکٹ منظور ہونے سے ملنے والی مالی مدد سے ممکن ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کی توجہ ایسے غریب علاقوں کے لوگوں پر ہے جہاں بجلی موجود نہیں اور نہ ہی لوگوں کے پاس مہنگے فلٹرز خریدنے کے لیے وسائل ہوتے ہیں ان میں سے بعض فلٹر کی قیمت 20 سے 25 ہزار روپے تک ہوتی ہے۔


متعلقہ خبریں