خیبرپختونخوا کابینہ کی تشکیل پر پی ٹی آئی میں اختلافات

خیبرپختونخوا کابینہ کی تشکیل پر پی ٹی آئی میں اختلافات | urduhumnews.wpengine.com

پشاور: خیبرپختونخوا میں حکومت سازی اور کابینہ کی تشکیل  پر پاکستان تحریک انصاف کے حلقوں میں بے چینی کی خبروں کے بعد اب اختلافات بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔

اتوار کے روز پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا کی 15 رکنی کابینہ کا اعلان کیا، جس کے مطابق شہرام خان تراکئی مقامی حکومتوں، تیمور سلیم جھگڑا وزیر خزانہ جب کہ محمد عاطف خان وزیر سیاحت کے ساتھ سینیئر وزیر ہوں گے۔

کابینہ کے اعلان کے ایک روز بعد ہی پی ٹی آئی  کےحلقوں میں اختلافات کھل کر سامنے اگئے۔ نئی کابینہ میں وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ ملک  شاہ محمد خان وزیر نے بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ملک شاہ محمد نے کہا کہ سوات کو وزارت اعلی کاعہدہ دیا گیا اور ہزارہ کو اسپیکر شپ کے سا تھ  تمام اہم عہدے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام وزارتیں وسطی اضلاع کو دی گئیں جب کہ جنوبی اضلاع کو یکسر نظرانداز کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے آگے پیچھے سات لوگ ہیں جو انہیں غلط رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی جنوبی زون  کے صدر سوات اور مینگورہ کی ترجمانی کر رہے ہیں۔

ملک شاہ محمد خان وزیر نے اعلان کیا کہ وہ وزارت نہیں لیں گے بلکہ رکن خیبرپختونخوا اسمبلی کی حیثیت سے کام کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی کابینہ  میں سابق وزیر اعلی  پرویزخٹک کے قریبی ساتھیوں کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ سابق وزیرایکسائز جمشیدالدین جنہیں پرویز خٹک کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے کو نئی کابینہ میں نظرانداز کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی زرائع کے مطابق جمشیدالدین کا عمران خان کے ساتھ انٹرویو تسلی بخش نہیں ہوا جس کی وجہ سے انہیں کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔

پرویزخٹک کے دیگر ساتھی بھی کابینہ میں نظر انداز کیے گئے ہیں۔ عاطف خان جو کہ وزارت اعلی کے امیدوار بھی تھے انہیں سینئر وزیر تو بنا دیا گیا مگر صرف سیاحت کا قلمندان دیا گیا۔

کامران بنگش، تیمور سلیم، ضیاء اللہ بنگش اور سلطان محمد پہلی دفعہ کا بینہ کا حصہ بنے ہیں۔ 15 رکنی کابینہ میں آٹھ ایم پی ایز ایسے ہیں جو سابق کابینہ کا بھی حصہ تھے۔

ابھی تک محکمہ داخلہ، تعلیم، اطلاعات سمیت 14 محمکوں کے وزراء کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ وزیراعلی ہاؤس کے ترجمان کے مطابق باقی محکموں کے لئے وزراء شارٹ لسٹ کر لیے گئے ہیں ان کے ناموں کا اعلان آئندہ ہفتہ کیا جائے گا۔

ملک شاہ محمد نے فیصلوں پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی غلط فیصلوں کی وجہ سے ضمنی انتخاب میں بنوں میں این اے 35 کی نشست خطرے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارتوں کی تقسیم میں میرٹ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ وہ سینئر ہیں اورجو وزارت انہیں دی گئی ہے وہ کبھی نہیں لیں گے۔ جنوبی اضلاع خاص کر بنوں کو مخصوص نشستوں میں بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ 15 مخصوص سیٹیوں پر نامزدگیاں دیگر علاقوں سے کی گئیں جو بنوں اور جنوبی اضلاع کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

خیبرپختونخوا کی 15 رکنی کابینہ میں شہرام تراکئی لوکل گورنمنٹ، تیمور سلیم جھگڑا خزانہ،  محمد عاطف خان  سیاحت سید اشتیاق محکمہ جنگلات، حاجی قلندر لودھی  محکمہ خوراک، شکیل احمد خان محکمہ ریونیو، محب اللہ  محکمہ زراعت، سلطان محمد خان قانون اور ہشام انعام اللہ خان محکمہ صحت، کامران خان بنگش انفارمیشن ٹیکنالوجی، اورڈاکٹر امجد علی منرل ڈیویلپمنٹ کے وزیر مقرر کیے گئے ہیں۔

ضیا اللہ خان بنگش کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا مشیر مقرر کیا گیا ہےجب کہ عبدالکریم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے انڈسٹریز ہوں گے۔اس کے علاوہ شاہ محمد خان وزیر اعلیٰ کے پی کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ مقرر کیے گئے ہیں۔


متعلقہ خبریں